بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال میں انتخابی مہم کے دوران ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے اور 4 مئی کے بعد بنگال ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔ انہوں نے یہ بات جمعرات کو ہلدیہ کے بعد آسن سول میں منعقدہ ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ مغربی بردھمان کے عوام کا جوش و خروش اور بڑی تعداد میں شرکت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ ریاست میں تبدیلی کی ہوا چل پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسن سول ہی نہیں بلکہ پورا بنگال اب تبدیلی چاہتا ہے اور ٹی ایم سی کے اقتدار کا خاتمہ یقینی نظر آ رہا ہے۔ ان کے مطابق ٹی ایم سی کے “گناہوں کا گھڑا” اب بھر چکا ہے اور عوام اس حکومت سے نجات حاصل کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ حکومت “ڈبل انجن” کی ہوگی، جس میں مرکز اور ریاست میں ایک ہی جماعت کی حکومت ہوگی، اور اس کے نتیجے میں ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ جائے گی۔ وزیر اعظم کے مطابق 4 مئی کے بعد بنگال ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے باب کا آغاز کرے گا۔ ٹی ایم سی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ ریاست کی ترقی کے لیے اس پارٹی سے نجات حاصل کرنا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جب پورا ملک تیزی سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اس وقت ٹی ایم سی حکومت بنگال کو پیچھے دھکیلنے میں مصروف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے وسائل، مواقع اور نوجوانوں کے مستقبل پر ٹی ایم سی کے “غنڈوں” کا قبضہ ہے اور عوام کی دولت کی کھلے عام لوٹ مار ہو رہی ہے۔
وزیر اعظم نے آسن سول کے کوئلہ بیلٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ علاقہ ملک کے اہم صنعتی مراکز میں شمار ہوتا تھا، لیکن موجودہ حکومت کے دور میں یہاں کے کاروبار پر مبینہ طور پر سنڈیکیٹ کا قبضہ ہو چکا ہے، جس سے عام لوگ شدید پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنگالی عوام اب اس صورتحال سے تنگ آ چکے ہیں اور تبدیلی کے خواہاں ہیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے درگاپور اور آسن سول کے صنعتی ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب یہ علاقہ نہ صرف بنگال بلکہ پورے بھارت کے صنعتی نقشے پر نمایاں مقام رکھتا تھا۔ یہاں سائیکل سے لے کر ریل، کاغذ سے لے کر اسٹیل، ایلومینیم سے لے کر شیشہ سازی تک صنعتوں کا ایک وسیع جال بچھا ہوا تھا اور ملک بھر سے لوگ یہاں روزگار کے لیے آتے تھے۔ تاہم، انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج صورتحال بالکل مختلف ہے۔ صنعتیں مسلسل بند ہو رہی ہیں یا دوسری جگہ منتقل ہو رہی ہیں، جس کے باعث مقامی نوجوانوں کو روزگار کی تلاش میں اپنے گھروں سے باہر جانا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ مسئلہ صرف آسن سول تک محدود نہیں بلکہ پورے بنگال کو درپیش ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ یہ انتخاب محض حکومت بدلنے کا نہیں بلکہ آسن سول اور بنگال کو اس کی کھوئی ہوئی صنعتی طاقت واپس دلانے کا انتخاب ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مقصد صرف بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کے اتحادی ہی حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں میں بنگال کے عوام نے کانگریس، بائیں بازو اور پھر ٹی ایم سی پر بھروسہ کیا، لیکن سب نے عوام کو مایوس کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب عوام صرف وعدوں پر یقین نہیں رکھتے بلکہ عملی کام اور کارکردگی کو دیکھنا چاہتے ہیں، اور اس معاملے میں بی جے پی کا ریکارڈ سب سے مضبوط ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مرکزی حکومت پہلے ہی اس علاقے کی ترقی کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور صنعتی منصوبوں، خصوصاً اسٹیل پلانٹس کی توسیع پر 45 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے کہا کہ 4 مئی کے بعد موجودہ حکومت کا خاتمہ ہوگا اور بی جے پی کی حکومت قائم ہوگی، جو عوام کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی اور بنگال کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو-
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی…
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…
سری گرو گرنتھ صاحب بھون میں منعقدہ سیمینار میں دانشوروں، قانون دانوں، مذہبی و سماجی…