ہلدیہ، مغربی بنگال: نریندرمودی نے مغربی بنگال کے ہلدیہ میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پورا بنگال اب تبدیلی کی راہ پر چل پڑا ہے، جس کی شروعات میدنی پور اور نندی گرام سے ہوئی تھی۔ انہوں نے ریاست میں ’’پریورتن کی آندھی‘‘ (تبدیلی کی لہر) کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عوام کا جوش و خروش بی جے پی کی ممکنہ کامیابی کی واضح نشاندہی کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں حکمراں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) حکومت کو ’’نِرَمَم سرکار‘‘ (بے رحم حکومت) قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب اس کے خاتمے کا وقت آ چکا ہے۔ مودی نے 2021 کے انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح سویندو ادھیکاری نے ممتا بنرجی کو نندی گرام میں شکست دی تھی، ویسا ہی اس بار بھوانی پور سمیت پورے بنگال میں دہرایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال کے عوام نے ہر مشکل کا مقابلہ کرنے اور تبدیلی لانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یہی جذبہ آنے والے انتخابات میں بی جے پی کی جیت کا سبب بنے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ انتخابات عام نہیں بلکہ بنگال کی کھوئی ہوئی عظمت کو بحال کرنے اور ایک ’’ترقی یافتہ بنگال‘‘ کی بنیاد رکھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب پورا ملک تیزی سے ترقی کر رہا ہے، تب ٹی ایم سی حکومت ریاست کو پیچھے دھکیل رہی ہے۔
صنعتی زوال اور بے روزگاری کا مسئلہ
وزیراعظم مودی نے ہلدیہ اور دیگر صنعتی علاقوں کی حالت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کبھی یہ علاقے صنعتی ترقی کے مراکز تھے، لیکن اب یہاں کارخانے بند ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں ملک بھر سے لوگ یہاں روزگار کے لیے آتے تھے، مگر آج مقامی نوجوانوں کو روزگار کے لیے دیگر ریاستوں جیسے انڈمان و نکوبار جزائر اور اوڈیشہ کی طرف ہجرت کرنا پڑ رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹی ایم سی حکومت کے دور میں ترقیاتی منصوبوں کے بجائے غیر قانونی سرگرمیوں کو فروغ ملا ہے، جن میں جعلی دستاویزات کی تیاری اور مویشیوں کی اسمگلنگ جیسے مسائل شامل ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ تبدیلی کی یہ لہر صرف چند علاقوں تک محدود نہیں بلکہ پورے مغربی بنگال میں پھیل چکی ہے، اور ہر شہری اس تبدیلی کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق، آنے والے انتخابات اس عوامی خواہش کا عملی اظہار ہوں گے۔
انتخابی پس منظر
مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے لیے ووٹنگ 23 اور 29 اپریل کو دو مرحلوں میں ہوگی جبکہ نتائج کا اعلان 4 مئی کو کیا جائے گا۔ گزشتہ 2021 کے انتخابات میں ٹی ایم سی نے 213 نشستوں کے ساتھ بھاری اکثریت حاصل کی تھی، جبکہ بی جے پی 77 نشستوں کے ساتھ دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری تھی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم مودی کے بیانات اور انتخابی مہم سے واضح ہوتا ہے کہ بی جے پی اس بار مغربی بنگال میں اقتدار حاصل کرنے کے لیے بھرپور کوشش کر رہی ہے، جبکہ ٹی ایم سی اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے میدان میں ڈٹی ہوئی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…
ریاستی دارالحکومت لکھنؤ میں آندھی اور بارش نے کئی برسوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔…
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا- ہم اپنی پارٹی کے وفادار ہیں، اتحاد پر فیصلہ پارٹی…
چیف الیکشن کمشنر (CEC) گیانیش کمار سے متعلق جاری تنازع کے درمیان الیکشن کمیشن نے…