امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 13 مئی کے وعدے کے مطابق، شام کی تنظیم النصرہ فرنٹ جسے اب حیات التحریر الشام (HTS) کے نام سے جانا جاتا ہے، کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں (FTO) کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ 8 جولائی سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔
شامی حکومت کی مثبت پیش رفت کے بعد امریکہ کا فیصلہ
مارکو روبیو کے مطابق، یہ قدم شام کے عبوری صدر احمد الشرع کے ان اعلانات کے بعد اٹھایا گیا ہے، جن میں انہوں نے HTS کو تحلیل کرنے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کا وعدہ کیا تھا۔ روبیو نے اس اقدام کو شام میں استحکام، امن اور سیاسی ہم آہنگی کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
ٹرمپ کا مشرق وسطیٰ میں وعدہ یادگار ثابت ہوا
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے 13 مئی کو مشرق وسطیٰ کے اپنے دورے کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ شام پر سے تمام پابندیاں ہٹانے جا رہے ہیں۔ ان کا یہ بیان اب عملی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کئی ممالک، خصوصاً اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی اپیل پر کیا گیا ہے۔
نیتن یاہو کا ردعمل: ایران کی کمزوری سے خطے میں امن کا امکان
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو، جو ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں، نے کہا ہے کہ ایران اور اس کے حامیوں کی کمزوری سے خطے میں استحکام، سلامتی اور بالآخر امن کے نئے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے شام میں نئی حکومت سے بات چیت کے لیے صدر ٹرمپ کی کوششوں کو سراہا۔
حیات التحریر الشام: القاعدہ سے الگ ہونے والی تنظیم
خیال رہے کہ النصرہ فرنٹ شام میں القاعدہ کی شاخ تھی، جسے احمد الشرع نے القاعدہ سے الگ کرتے ہوئے حیات التحریر الشام کا نام دیا۔ امریکہ کے اس فیصلے سے اب حیات التحریر الشام پر یر ملکی دہشت گرد تنظیموں FTO کی پابندیاں لاگو نہیں ہوں گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں ماحولیات سے متعلق ہر شعبے…
این سی پی آئی کی رکن پارلیمنٹ سایونی گھوش نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے…
20ویں روزگار میلے میں منتخب کیے گئے 51 ہزار سے زائد نوجوان بھارت سرکار کی…
امت شاہ صبح 11 بجے ہبلی میں کے ایل ای جے جی ایم ایم میڈیکل…
سابق جج نے کہا، ’’ایک شخص کو بظاہر سیاسی آزادی حاصل ہو سکتی ہے، لیکن…
موڈیز کا نیا اندازہ کئی دیگر بڑی مالیاتی ایجنسیوں اور اداروں کے مقابلے میں زیادہ…