پاکستان میں شدید بارش کے نتیجے میں پنجاب بھر میں تباہ کن سیلابی صورت حال پیدا ہو چکی ہے، جہاں 24 لاکھ سے زائد افراد متاثر اور ایک ہزار سے زائد دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں۔ اس بحران کے دوران پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے عوام کو اس مسئلے کا ایک عجیب و غریب حل بتایا ہے۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیلاب کے پانی کو نالوں میں جانے دینے کے بجائے ’’گھروں میں ٹب اور کنٹینرز میں ذخیرہ کریں‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’جو لوگ سیلاب کی صورت حال پر احتجاج کر رہے ہیں، وہ اس پانی کو گھر لے جائیں۔ ہمیں اسے نعمت کے طور پر دیکھنا چاہیے۔‘‘
خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کو بڑے آبی منصوبوں پر انحصار کرنے کے بجائے چھوٹے ڈیمز تعمیر کرنے چاہئیں جو کم وقت میں مکمل ہو سکیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’ہم پانی کو ضائع کر رہے ہیں، ہمیں اسے ذخیرہ کرنا چاہیے۔‘‘ خواجہ آصف کے ان عجیب و غریب بیانات کو عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب متاثرہ علاقوں میں لوگ پناہ، خوراک، اور طبی امداد کے لیے ترس رہے ہیں۔
پاکستان کے پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمٰی بخاری کے مطابق صوبے میں ریکارڈ توڑ بارش کے نتیجے میں اب تک 854 افراد جاں بحق جب کہ 1,100 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کے مطابق یہ اعداد و شمار 26 جون سے 31 اگست کے درمیان کے ہیں۔ دریں اثنا حکام نے خبردار کیا ہے کہ دریائے چناب کا بڑھتا ہوا پانی منگل کے روز ملتان ضلع تک پہنچ سکتا ہے، جہاں یہ دریائے راوی کے پانی سے ملے گا۔ اسی طرح، دریائے پنجند کا سطحِ آب 5 ستمبر کو اپنی بلند ترین سطح تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ایسے میں مزید دو دن کی بارش کی پیش گوئی نے امدادی سرگرمیوں میں مزید خلل کا اندیشہ پیدا کر دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ وسیع پیمانے پر زرعی اراضی اور فصلوں کی تباہی سے پاکستان کو غذائی بحران اور مہنگائی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
شیخ محمد بن زاید النہیان نے وزیر اعظم مودی کو سالگرہ کی مبارکباد دی، توانائی،…
روزگار میلے کے ذریعے جن شعبوں میں نوجوانوں کو ملازمتیں دی جا رہی ہیں، ان…
ایمپلائز ڈپازٹ لنکڈ انشورنس اسکیم (EDLI) کے تحت ای پی ایف کے ارکان کو ملازمت…
وزیر اعظم کی جانب سے شیئر کیے گئے اس سنسکرت سبھاشیت میں خود کفالت اور…
چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا…
وزیر اعظم نریندر مودی کی 76ویں سالگرہ اور عوامی زندگی کے 25 سال مکمل ہونے…