بین الاقوامی

Nepal Flood: نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 579 ہوئی، 1,924 افراد اب بھی لاپتہ، ریسکیو آپریشن جاری، 320 بھارتی شہریوں سے اب تک نہیں ہوسکا رابطہ

کھٹمنڈو: نیپال میں تباہ کن اچانک سیلاب کے باعث ہلاکتوں کی تعداد میں جمعہ کو تیزی سے اضافہ ہوا اور چند گھنٹوں کے اندر مزید 41 اموات کے بعد یہ تعداد 579 تک پہنچ گئی۔ لاپتہ افراد کی تعداد بھی بڑھ کر 1,924 ہو گئی ہے۔ نیپال کی نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (NDRRMA) کی جانب سے جمعہ کی شام 7 بجے جاری تازہ ترین سرچ، ریسکیو اینڈ ریلیف اپ ڈیٹ کے مطابق اب تک 579 لاشیں برآمد کی جا چکی ہیں، جبکہ 101 زخمی افراد اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ امدادی اور طبی کارروائیوں میں معاونت کے لیے ایک سرجیکل میڈیکل ٹیم بھی متحرک کی گئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں تک پہنچنے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے 15 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار سرچ، ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔

933 ہائیڈرو پاور ملازمین بھی لاپتہ

1,924 لاپتہ افراد میں ہائیڈرو پاور پروجیکٹس سے وابستہ افراد، غیر ملکی شہری، عام شہری، سکیورٹی اہلکار اور سرکاری ملازمین شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹس سے وابستہ 933 افراد لاپتہ ہیں، جبکہ 517 غیر ملکی شہریوں کا بھی اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ لاپتہ افراد میں بیرون ملک مقیم 127 نیپالی شہری بھی شامل ہیں جو نیپال آئے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ راسوا ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشنز سینٹر سے 161، مکوان پور سے 66 اور نواکوٹ سے ایک شخص کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی ہے۔

فوج اور پولیس کے اہلکار بھی لاپتہ

لاپتہ افراد کی فہرست میں نیپالی فوج کے 45 اہلکار، نیپال پولیس کے 28 اہلکار، مسلح پولیس فورس کے 13 اہلکار، کسٹمز دفتر کے 15 ملازمین اور امیگریشن دفتر کے 15 ملازمین شامل ہیں۔ لینگ ٹانگ نیشنل پارک سے بھی تین افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ NDRRMA کے مطابق ریسکیو آپریشن کے لیے مجموعی طور پر 15,431 سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں، جن میں نیپالی فوج کے 6,755، نیپال پولیس کے 4,473 اور مسلح پولیس فورس کے 4,203 اہلکار شامل ہیں۔

4,451 افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا

ریسکیو ٹیمیں اب تک 4,451 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر چکی ہیں۔ ان میں ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کی ایک سرنگ سے نکالے گئے 191 افراد بھی شامل ہیں۔ جمعہ کو 517 افراد کو فضائی راستے سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا، جبکہ 129 غیر ملکی شہریوں کو بھی بچایا جا چکا ہے۔ آفت سے کٹے ہوئے علاقوں تک پہنچنے کی کوششوں کے ساتھ فضائی امدادی کارروائیوں کا دائرہ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔ NDRRMA کے مطابق نیپالی فوج اور نجی آپریٹرز کے 16 ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اب تک 99 فضائی پروازیں کی جا چکی ہیں۔  مواصلاتی نظام بھی بتدریج بحال کیا جا رہا ہے۔ قدرتی آفت میں تباہ ہونے والے 198 ٹیلی فون ٹاورز میں سے 145 کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے۔ نیپال حکومت نے امدادی کارروائیوں کے لیے راسوا اور نواکوٹ کو ایک ایک کروڑ نیپالی روپے اور دھادنگ کو 50 لاکھ نیپالی روپے جاری کیے ہیں۔ مزید 6 کروڑ 75 لاکھ نیپالی روپے 15 مقامی سطح کی انتظامیہ کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں پہنچایا گیا امدادی سامان

حکام نے خوراک اور غیر غذائی اشیا سے لدے 32 ٹرک متاثرہ علاقوں کے لیے روانہ کیے ہیں، جبکہ مزید امدادی سامان پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں کی چھ پروازیں کی گئی ہیں۔ آفت زدہ علاقوں میں مواصلاتی آلات بھی بھیجے گئے ہیں۔ امدادی کارروائیوں کو جاری رکھنے کے لیے ایندھن کی فراہمی بھی برقرار رکھی جا رہی ہے۔ نواکوٹ میں بھیروَی، سوریامتی اور پنچ کنیا آئل اسٹورز میں 41 ہزار لیٹر ڈیزل اور 24 ہزار لیٹر پٹرول موجود ہے، جبکہ مزید 17 ہزار لیٹر ایوی ایشن فیول نواکوٹ بھیجا گیا ہے۔

ایک ماہ کی تنخواہ عطیہ کریں گے وزیر اعظم اور وزرا

نیپال حکومت نے ریسکیو کارروائیوں کے ساتھ مزید اقدامات کا بھی اعلان کیا ہے۔ وزیر اعظم بالیندر شاہ اور ان کی کابینہ کے ارکان نے اپنی ایک ماہ کی تنخواہ وزیر اعظم ڈیزاسٹر ریلیف فنڈ میں عطیہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق کابینہ نے وزارت خزانہ کو راسواگڑھی اور بھوٹے کوشی ندی کے علاقوں اور نچلے علاقوں میں سیلاب سے متاثرہ افراد اور کاروباری اداروں کے لیے امداد اور بحالی کا پیکیج تیار کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

بھارت نے امدادی کارروائیاں مزید بڑھا دیں

آفت کی شدت واضح ہونے کے ساتھ بھارت نے نیپال کے لیے انسانی امداد اور خصوصی ریسکیو معاونت بھی بڑھا دی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بتایا کہ بھارت پہلے ہی امدادی سامان لے جانے والے دو طیارے نیپال بھیج چکا ہے اور جمعہ کی شام تیسری پرواز بھی روانہ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ 26 اگست کو روانہ ہونے والے پہلے طیارے میں 10 ٹن امدادی سامان تھا، جس میں عارضی پناہ گاہیں، کمبل، حفظانِ صحت کی کٹس، شمسی لیمپ اور ادویات شامل تھیں۔ 27 اگست کو روانہ ہونے والے دوسرے طیارے میں 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا گیا، جس میں خیمے، کمبل، حفظانِ صحت کی کٹس، شمسی لیمپ، پانی نکالنے والے پمپ، کچن سیٹس، جنریٹر، ادویات اور خوراک شامل تھی۔ مجوزہ تیسری پرواز میں تقریباً 12 سے 13 ٹن انسانی امداد بھیجے جانے کی توقع ہے۔ اس میں پورٹیبل جنریٹر، ڈگنٹی کٹس، خوراک، پانی صاف کرنے والی گولیاں اور ادویات شامل ہوں گی۔ جیسوال نے پریس بریفنگ میں کہا کہ اگر یہ پرواز بھی روانہ ہوتی ہے تو بھارت نیپال کو انسانی امداد کے طور پر مجموعی طور پر تقریباً 60 ٹن امدادی سامان بھیج چکا ہوگا۔

ریسکیو کے لیے خصوصی ٹیم بھیجے گا بھارت

بھارت سرنگ سے ریسکیو کے لیے ایک خصوصی ٹیم بھی تیار کر رہا ہے۔ پہلے ایک جائزہ ٹیم نیپال بھیجی جائے گی جو صورتحال کا جائزہ لے کر ضروری آلات کا تعین کرے گی۔ ایک طبی ٹیم بھی نیپال بھیجی جا رہی ہے۔ نئی دہلی نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رابطہ بحال کرنے کے لیے بیلی پل اور متعلقہ تکنیکی ٹیمیں فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔ جیسوال نے کہا کہ ایک بیلی پل پہلے ہی نیپال میں موجود ہے جسے امدادی کارروائیوں اور رابطے کی بحالی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بھارت نے نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (NDRF) کی ٹیمیں اور متعلقہ آلات بھی نیپال بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔ جیسوال نے کہا کہ اس سلسلے میں بھارت نیپال حکومت کے جواب کا انتظار کر رہا ہے اور نیپال کی جانب سے درکار کسی بھی اضافی امداد کے لیے تیار ہے۔

چین میں تقریباً 400 بھارتی شہریوں سے رابطہ

بھارت آفت سے متاثرہ اپنے شہریوں کی تلاش اور انخلا کے لیے بھی کوششیں کر رہا ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق چین میں تقریباً 400 بھارتی شہریوں سے رابطہ قائم ہو چکا ہے اور وہ سب محفوظ ہیں۔ بیجنگ میں بھارتی سفارتخانہ ان شہریوں، ان کے ٹریول ایجنٹس اور گروپ لیڈرز کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ رابطہ بحال ہونے کے بعد ان کے انخلا میں سہولت فراہم کی جا سکے۔ جیسوال نے بتایا کہ چین کی جانب لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکیں متاثر ہوئی ہیں، جس کے باعث ان کی واپسی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

320 بھارتی شہریوں سے رابطہ نہیں ہو سکا

وزارت خارجہ نے بتایا کہ مزید 320 بھارتی شہریوں سے ابھی رابطہ قائم نہیں ہو سکا ہے، جبکہ دیگر قومیتوں کے حامل بھارتی نژاد تقریباً 100 افراد سے بھی رابطہ نہیں ہو پایا ہے۔ جیسوال نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار حتمی نہیں ہیں اور صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے، کیونکہ حکام مختلف فہرستوں کو ملا کر اعداد و شمار کی تصدیق کر رہے ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق سیلاب سے متاثرہ علاقے سے کھٹمنڈو پہنچنے والے 21 بھارتی شہری دہلی پہنچ چکے ہیں، جبکہ تریشولی ون ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں کام کرنے والے 63 بھارتی شہریوں کو پہلے ہی بچایا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ چین کی جانب پھنسے 96 بھارتی شہری بحفاظت زمینی راستے سے نیپال پہنچ گئے ہیں اور انہیں وہاں سے نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔

ریسکیو آپریشن انتہائی اہم مرحلے میں داخل

یہ قدرتی آفت 26 اگست کو اس وقت شروع ہوئی جب تبت-نیپال سرحد پر ایک تباہ کن اچانک سیلاب آیا۔ پانی، مٹی اور بڑے پتھروں کا ایک طاقتور ریلا راسواگڑھی کے تبتی سرحدی علاقے سے بھوٹے کوشی اور تریشولی ندی میں داخل ہو گیا۔ 579 افراد کی ہلاکت اور 1,924 افراد کے اب بھی لاپتہ ہونے کے بعد نیپال کا ریسکیو آپریشن انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ 15 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار، درجنوں ہیلی کاپٹر اور مختلف اداروں کی ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش، متاثرین کے انخلا اور سیلاب سے تباہ حال آبادیوں تک امداد پہنچانے میں مصروف ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

15 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

16 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

17 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

18 hours ago