نئی دہلی: دہلی کی ادبی روایت کونئی نسل کے تخلیق کاروں سے جوڑنے اورمختلف عمرکے اہلِ قلم کوایک مشترکہ ادبی پلیٹ فارم فراہم کرنے کے مقصد سے منعقد ہونے والے پانچ روزہ ادبی اجتماع ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کا افتتاحی اجلاس آج 28 اگست 2026 کواردواکادمی، دہلی کے قمررئیس سلورجبلی آڈیٹوریم میں منعقد ہوا۔ یہ ادبی اجتماع یکم ستمبرتک جاری رہے گا، جس میں دہلی کے بزرگ ونوجوان شعرا، ادبا اورریسرچ اسکالرزکی بڑی تعداد شرکت کررہی ہے۔
افتتاحی اجلاس کے آغازمیں اکادمی کے سینئرکارکنان محمد ہارون اورعزیرحسن قدوسی نے مہمانِ خصوصی وصدراجلاس پروفیسرصادق علی، سابق صدرشعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی اور دیگرمعززمہمانوں کا پودا پیش کرکے خیرمقدم کیا۔ اس موقع پرڈاکٹرخالد رضا خان، ایڈیٹربھارت ایکسپریس اردوکا بھی استقبال کیا گیا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض معروف شاعروناظم ڈاکٹر شفیع ایوب نے انجام دیئے۔ انہوں نے ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کی تاریخ، پس منظراوراس کے مختلف ادوارمیں مرتب ہونے والے پروگراموں کے ڈھانچے پرتفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے غیر اردوحلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے اردو زبان وادب کی آبیاری اوراردومیں لکھنے پڑھنے کے رجحان کوقابلِ تحسین قراردیتے ہوئے کہا کہ ایسے افراد کی وابستگی اردو کے دائرے کومزید وسیع کرنے میں اہم کردارادا کرتی ہے۔
نمایاں مقام رکھتا ہے اکادمی کا یہ پروگرام: ڈاکٹر خالد رضا خان
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان اعزازی ڈاکٹرخالد رضا خان نے اردواکادمی اوراس کے منتظمین کواس اہم ادبی اجتماع کے انعقاد پرمبارک باد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کے عنوان سے منعقد ہونے والا یہ پروگرام ہندوستان بھرمیں منعقد ہونے والے ادبی پروگراموں میں اپنی وسعت اورانفرادیت کے اعتبارسے نمایاں مقام رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات کوبھی قابلِ ذکر قراردیا کہ اس اجتماع میں بڑی تعداد میں ممتازشعرا، ادبا اورریسرچ اسکالرزشریک ہوتے ہیں اوراپنے تحقیقی وادبی مقالات پیش کرتے ہیں۔
پروفیسرایس صادق نے اپنے دیرینہ یادوں کا ذکرکیا
اجلاس کے مہمانِ خصوصی پروفیسرایس صادق نے اپنے صدارتی خطاب میں اردواکادمی سے وابستہ اپنی دیرینہ یادوں کا ذکرکیا۔ انہوں نے اپنے دورِصدارت وانتظامی وابستگی کے زمانے کے مختلف اہم واقعات اورتجربات حاضرین کے ساتھ شیئرکئے۔ پروفیسر صادق نے ’’نئے پرانے چراغ‘‘ کی ابتدا اوراس کے پس منظرپربھی گفتگوکی اوربتایا کہ اس پروگرام کے آغازمیں انہیں خود بھی اہم کردارادا کرنے کا موقع ملا تھا۔ انہوں نے اس ادبی اجتماع کے تسلسل اوراس کی وسعت پراردواکادمی کومبارک باد پیش کی۔
مختلف اصناف کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے یہ پروگرام
’’نئے پرانے چراغ‘‘ کا بنیادی مقصد اردوزبان وادب کی مختلف اصناف سے وابستہ اہلِ قلم کوایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے، جہاں نئی نسل کے تخلیق کاروں کوسینئرشعرا وادبا کے تجربات سے استفادہ کا موقع مل سکے اوردہلی کی دیرینہ ادبی روایت کونئی فکر، تازہ امکانات اورنئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھایا جا سکے۔ پانچ روزہ اس اجتماع کے دوران مختلف ادبی نشستیں، سمینار اورمشاعرے منعقد ہوں گے، جن میں بڑی تعداد میں شعرا، ادبا اورریسرچ اسکالرزاپنی تخلیقات اورتحقیقی کاوشیں پیش کریں گے۔
محفلِ شعروسخن کا انعقاد
افتتاحی اجلاس کے اختتام کے بعد محفلِ شعروسخن کا انعقاد ہوا جس کا باقاعدہ آغازپروفیسرصادق، پروفیسراخلاق احمد آہن اوردیگرمعززشعرا نے شمع روشن کرکے کیا۔ مشاعرے کی صدارت پروفیسر اخلاق احمد آہن، پروفیسر، شعبۂ فارسی، جواہر لال نہرویونیورسٹی نے فرمائی، جب کہ نظامت کے فرائض معروف نوجوان شاعرانس فیضی نے انجام دیئے۔ مشاعرے میں شہرکے معروف وممتازشعرا کے علاوہ نوجوان شعرا نے بھی شرکت کی اوراپنے منتخب کلام پیش کرکے سامعین کومحظوظ کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…
فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…
’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…
راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…