بین الاقوامی

Palestinian Prisoner Death Claim: اسرائیلی جیل میں فلسطینی قیدی کو بجلی کا جھٹکا دے کر ہلاک کرنے کا دعویٰ، ویڈیو وائرل

اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں سے متعلق ایک متنازعہ قانون کی منظوری کے بعد سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اسرائیلی جیل میں ایک فلسطینی قیدی کو بجلی کا جھٹکا دے کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ تاہم اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی اور نہ ہی اسرائیلی حکام کی جانب سے اس دعوے کی باضابطہ توثیق کی گئی ہے، جس کے باعث معاملہ مزید متنازعہ شکل اختیار کر گیا ہے۔ وائرل ویڈیو میں ایک شخص کو کرسی پر باندھا ہوا دکھایا گیا ہے، جس کے ہاتھ اور پیر مضبوطی سے بندھے ہوئے ہیں جبکہ اس کا چہرہ بھی ڈھانپا گیا ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک دوسرا شخص آگے بڑھتا ہے اور ایک سوئچ دباتا ہے، جس کے بعد کرسی پر بیٹھا شخص شدید تکلیف میں تڑپنے لگتا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس شخص کو بار بار بجلی کے جھٹکے دیے جاتے ہیں اور آخرکار وہ بے جان ہو جاتا ہے۔ ویڈیو شیئر کرنے والے صارفین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اسرائیلی جیل میں پیش آیا، تاہم اس کی تاریخ اور مقام کے حوالے سے کوئی مستند معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی پارلیمنٹ نے 30 مارچ کو ایک متنازعہ بل منظور کیا، جس کے تحت فلسطینی قیدیوں کو موت کی سزا دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس قانون کے مطابق مغربی کنارے کے فلسطینی قیدیوں کو مخصوص جرائم میں ملوث ہونے کی صورت میں موت کی سزا دی جا سکے گی اور سزا سنائے جانے کے بعد 90 دن کے اندر اس پر عملدرآمد کیا جائے گا۔ اس قانون میں اپیل کا حق محدود رکھا گیا ہے، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اس بل کی حمایت اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتمار بین گویر نے کی تھی، جو طویل عرصے سے سخت گیر پالیسیوں کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ بل کی منظوری کے بعد انہوں نے اسے اسرائیل کی سلامتی کے لیے اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی یہودیوں کے قتل میں ملوث ہوگا، اسے سخت ترین سزا دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف مؤثر پیغام دیا جائے گا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے گی۔ بل کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں حکومتی ارکان نے جشن بھی منایا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایتمار بین گویر اور ان کے حامی ارکان نے ایوان کے اندر شیمپین کی بوتل کھول کر خوشی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آج اسرائیل کھیل کے قواعد تبدیل کر رہا ہے اور قاتلوں کے لیے کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

دوسری جانب اسرائیلی اپوزیشن جماعتوں نے اس بل کی مخالفت کی اور اسے متنازعہ اور غیر منصفانہ قرار دیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ انسانی حقوق کے اداروں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وائرل ویڈیو کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ فی الحال وائرل ویڈیو کی صداقت کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے، تاہم اس واقعے نے بین الاقوامی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے اور اسرائیل کے نئے قانون پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

Deepika Padukone: بالی ووڈ کے مشہور جوڑے کے گھر ایک بار پھر ننھی پری کی آمد، دیپیکا نے سوشل میڈیا پر شیئر کی خوشخبری

دیپیکا پڈوکون نے اپنے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر مداحوں کے ساتھ یہ خوشخبری شیئر کی۔…

31 minutes ago

Gold-Silver Price: فیڈرل ریزرو کے شرح سود بڑھانے کے بعد سونے میں تیزی، جانیے تازہ قیمتیں

امریکی فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے کے…

32 minutes ago

Iran Executes Spying Person: اسرائیل کو خفیہ معلومات بھیجنے والا جاسوس گرفتار، ایران نے دی پھانسی

ایرانی عدلیہ کے مطابق حسین پدران نے اصفہان میں فوجی اور میزائل تنصیبات سے متعلق…

1 hour ago

Lalan Singh JDU Prabodhan Programme: جنتا دل یونائیٹڈ کے پروگرام میں غیر حاضری پر لالن سنگھ کی وضاحت، کہا ’میں گجرات میں تھا‘

مرکزی وزیر نے کہا، پروگرام کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، پارٹی میں کسی طرح کا…

2 hours ago