جنتا دل یونائیٹڈ کے ارکان اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے ارکان کے لیے منعقدہ تربیتی پروگرام میں شرکت نہ کرنے پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان مرکزی وزیر اور جے ڈی یو کے سینئر رہنما راجیو رنجن سنگھ عرف لالن سنگھ نے وضاحت پیش کی ہے۔ ہفتہ کو پٹنہ پہنچنے کے بعد لالن سنگھ نے کہا کہ پروگرام کے وقت وہ گجرات میں تھے اور انہیں اس پروگرام کی پہلے سے اطلاع نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ پارٹی مکمل طور پر متحد ہے اور ان کی غیر حاضری کو لے کر جس طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں، ان کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے۔ لالن سنگھ نے کہا کہ جے ڈی یو کی تشکیل نتیش کمار نے کی تھی اور پارٹی میں آج بھی تمام فیصلے باہمی مشاورت اور تال میل کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔
پروگرام کے وقت گجرات میں تھا: لالن سنگھ
لالن سنگھ نے بتایا کہ جے ڈی یو کے پروگرام کے سلسلے میں کئی ارکان اسمبلی نے انہیں فون کیا تھا۔ انہوں نے سب کو بتایا کہ وہ گجرات میں ہیں اور اسی وجہ سے پروگرام میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔ ان کے مطابق، پروگرام سے ایک رات پہلے تقریباً 9 بجے نتیش کمار کے بیٹے اور ریاستی وزیر صحت نشانت کمار نے بھی انہیں فون کیا تھا۔ اس وقت بھی انہوں نے اپنی مصروفیت اور گجرات میں موجود ہونے کی اطلاع دی تھی۔ اس کے بعد لالن سنگھ نے جے ڈی یو کے ورکنگ صدر سنجے کمار جھا سے بھی فون پر بات کی۔ سنجے جھا نے انہیں بتایا کہ یہ ایک معمول کا تربیتی پروگرام ہے، جس کا مقصد نئے ارکان اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے ارکان کو ضروری تربیت دینا ہے۔
پروگرام میں نتیش کمار اور نشانت کمار کی موجودگی
جے ڈی یو نے 18 ستمبر کو پٹنہ میں ارکان اسمبلی اور قانون ساز کونسل کے ارکان کے لیے ایک روزہ تربیتی پروگرام منعقد کیا تھا۔ پروگرام میں نتیش کمار، نشانت کمار، سنجے کمار جھا اور دیگر سینئر رہنما موجود تھے۔ اس دوران نشانت کمار نے بھی پارٹی کے ارکان سے خطاب کیا۔ لالن سنگھ کی غیر حاضری نمایاں رہی، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوگئی تھیں۔ سنجے جھا نے بھی لالن سنگھ کی غیر حاضری کو پروگرام کے دائرہ کار سے جوڑتے ہوئے کہا تھا کہ یہ بنیادی طور پر ریاستی قانون سازوں کے لیے منعقد کیا گیا پروگرام تھا۔
’جے ڈی یو میں کوئی اختلاف نہیں‘
لالن سنگھ نے پارٹی کے اندر اختلافات کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جے ڈی یو میں کسی طرح کا کوئی تنازع نہیں ہے اور تمام رہنما مل کر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی رکن اسمبلی کے ذہن میں کوئی سوال یا شبہ ہے تو وہ ان سے بھی بات کریں گے۔ لالن سنگھ نے کہا کہ پارٹی میں اندرونی جمہوریت، باہمی مشاورت اور رہنماؤں کے درمیان تال میل کی روایت شروع سے رہی ہے اور آج بھی اسی طریقہ کار کے تحت پارٹی کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ واضح رہے کہ پروگرام میں لالن سنگھ کی غیر حاضری کے ساتھ کچھ دیگر سیاسی معاملات کو جوڑ کر بھی قیاس آرائیاں کی گئی تھیں، تاہم لالن سنگھ نے اپنی غیر حاضری کی وجہ گجرات میں پہلے سے طے شدہ مصروفیت بتائی اور پارٹی میں اختلاف کی بات سے انکار کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایرانی عدلیہ کے مطابق حسین پدران نے اصفہان میں فوجی اور میزائل تنصیبات سے متعلق…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اے بی وی…
فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ جیسے ممالک میں ریاضی، مطالعہ اور سائنس میں طلبہ…
ڈبل اولمپک میڈلسٹ منو بھاکر نے کہا، بھارتی دستے کی قیادت کرتے ہوئے ترنگا تھامنا…
اڈانی گروپ نے بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے ساتھ شراکت داری کی تجدید کی، جاپان…
وجیندر نے مرکزی وزیر داخلہ کو پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں اور کرناٹک حکومت کے خلاف…