دہلی یونیورسٹی طلبہ یونین (DUSU) انتخابات 2026 کے نتائج سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ اس بار کے انتخابات میں اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) نے چار میں سے تین نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کامیابی کے بعد مرکزی وزرا سے لے کر مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ تک نے اے بی وی پی اور اس کے کارکنوں کو مبارکباد دی ہے۔ اے بی وی پی کی اس کامیابی پر بعض لیڈروں نے اسے محض طلبہ یونین کے انتخابات کا نتیجہ قرار دینے کے بجائے نوجوانوں کی جانب سے ’راشٹر فرسٹ‘ کی سوچ پر اعتماد سے تعبیر کیا ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اے بی وی پی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی تنظیم کی قومی مفاد کے تئیں وابستگی اور قوم پرستانہ نظریے کی عکاس ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابی نتیجہ ان طاقتوں کے لیے جواب ہے جو یونیورسٹی کیمپس کو اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔
کئی سینئر لیڈروں نے بھی دی مبارکباد
بی جے پی صدر نتن نوین اور مرکزی وزیر جے پی نڈا نے بھی اے بی وی پی کی کامیابی کو ’وکست بھارت‘ کے وژن سے جوڑا۔ جے پی نڈا نے کہا کہ نوجوان سوامی وویکانند کے نظریات پر چلتے ہوئے ملک کی خدمت کے جذبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ مرکزی وزیر نتن گڈکری اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی نو منتخب ٹیم کو مستقبل کے لیے نیک خواہشات پیش کیں۔ ان لیڈروں نے امید ظاہر کی کہ یہ نوجوان طلبہ کی فلاح و بہبود کے ساتھ ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
दिल्ली विश्वविद्यालय छात्र संघ चुनाव में @ABVPVoice की शानदार जीत पर परिषद के सभी कर्मठ कार्यकर्ताओं को हार्दिक बधाई।
यह विजय परिषद की राष्ट्र प्रथम की विचारधारा और छात्रहित के प्रति समर्पण पर युवाओं के अटूट भरोसे को दर्शाती है। मुझे पूर्ण विश्वास है कि परिषद के कार्यकर्ता इस जीत से मिली नई ऊर्जा और स्वामी विवेकानंद जी के आदर्शों पर चलते हुए छात्रहितों व राष्ट्र निर्माण के कार्यों को निरंतर आगे बढ़ाते रहेंगे।
— Amit Shah (@AmitShah) September 19, 2026
ریاستی لیڈروں نے بھی کیا ردعمل کا اظہار
انتخابی نتائج پر صرف مرکزی لیڈروں ہی نہیں بلکہ مختلف ریاستوں کے سیاسی لیڈروں نے بھی ردعمل ظاہر کیا۔ دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا، جن کا تعلق خود دہلی یونیورسٹی کی طلبہ سیاست سے رہا ہے، نے اسے ایک جذباتی لمحہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت اور ملک کی ترقی کے عزم پر نوجوانوں کی مہر ہے۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس چاہے جتنی کوشش کر لے، آج کا نوجوان مثبت سوچ اور قومی مفاد کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ راگھو چڈھا نے بھی طلبہ کے فیصلے پر ردعمل ظاہر کیا۔ راگھو چڈھا نے کہا کہ بڑی تعداد میں ووٹنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ طلبہ تعمیری اور ذمہ دار سیاست چاہتے ہیں۔ انہوں نے نو منتخب ٹیم سے طلبہ کی توقعات پر پوری ایمانداری سے پورا اترنے کی اپیل کی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
ایرانی عدلیہ کے مطابق حسین پدران نے اصفہان میں فوجی اور میزائل تنصیبات سے متعلق…
مرکزی وزیر نے کہا، پروگرام کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، پارٹی میں کسی طرح کا…
فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ جیسے ممالک میں ریاضی، مطالعہ اور سائنس میں طلبہ…
ڈبل اولمپک میڈلسٹ منو بھاکر نے کہا، بھارتی دستے کی قیادت کرتے ہوئے ترنگا تھامنا…
اڈانی گروپ نے بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے ساتھ شراکت داری کی تجدید کی، جاپان…
وجیندر نے مرکزی وزیر داخلہ کو پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں اور کرناٹک حکومت کے خلاف…