بین الاقوامی

Gas Cylinder Crisis: آبنائے ہرمز بند ہونے سے کیا چین میں بھی ایل پی جی کی قلت؟ کتنے دن میں مل رہا سلنڈر

نئی دہلی :دنیا کی توانائی کی اہم گزرگاہ آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی کشیدگی کا مرکز بن گئی ہے۔ ایران کے حالیہ اقدامات اور عمان کے قریب جہازوں پر فائرنگ کے واقعات کے بعد عالمی تیل منڈی میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اس صورتحال کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا دنیا کا سب سے بڑا توانائی صارف چین بھی اس بحران سے متاثر ہو رہا ہے اور کیا وہاں ایل پی جی کی قلت شروع ہو گئی ہے؟

چین کی توانائی سپلائی پر دباؤ

آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کی اہم ترین گزرگاہ ہے۔ چین اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 40 سے 48 فیصد حصہ اسی راستے سے حاصل کرتا ہے۔ اس راستے میں رکاوٹ کا مطلب چین کی معیشت کیلئے سپلائی چین پر دباؤ بڑھنا ہے۔ اگرچہ ایران نے یہ قدم امریکی دباؤ کے جواب میں اٹھایا ہے، لیکن اس کے اثرات چین کی توانائی سیکیورٹی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

چین کے پاس کتنا ذخیرہ؟

رپورٹس کے مطابق چین نے اس طرح کے بحران سے نمٹنے کیلئے پہلے سے بڑے پیمانے پر تیل اور گیس ذخیرہ کر رکھا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق چین کے پاس 130 دن سے زیادہ کا اسٹریٹجک ذخیرہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فوری طور پر وہاں کسی بڑے بحران کی صورتحال پیدا نہیں ہوئی ہے۔

کیا چین میں ایل پی جی کی قلت ہے؟

فی الحال چین میں ایل پی جی سلنڈر کی شدید قلت یا لمبے انتظار جیسی صورتحال نہیں ہے۔ عام شہریوں کو سلنڈر معمول کے مطابق دستیاب ہو رہے ہیں اور سپلائی چین بھی فعال ہے۔ چین نے متبادل سپلائرز کے ساتھ بھی رابطہ بڑھایا ہے تاکہ کسی ممکنہ رکاوٹ کا اثر کم کیا جا سکے۔مختصراً، آبنائے ہرمز کی کشیدگی سے چین متاثر ضرور ہوا ہے، لیکن اس کے بڑے ذخائر اور متبادل سپلائی نظام کے باعث وہاں فوری طور پر ایل پی جی بحران پیدا نہیں ہوا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

Hasan Mahmud Makes History: حسن محمود نے رقم کی تاریخ، ٹیسٹ کرکٹ میں ہیٹ ٹرک لینے والے بنت بنگلہ دیش کے پہلے تیز گیندباز

افغانستان نے اپنے آخری چھ وکٹیں صرف 29 رنز کے اضافے پر گنوا دیں۔ افغانستان…

2 hours ago

Jantar Mantar Protest: سی جے پی کے احتجاج پر اقوام متحدہ نے ظاہر کی تشویش، کس معاملے پر کیا گیا تھا احتجاج؟

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے ترجمان تھامین الخیتان نے دہلی میں احتجاج…

4 hours ago