سماجوادی پارٹی کے صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے پیر کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر شدید حملہ کرتے ہوئے ان پر ’فرضی احتجاج‘ کرانے اور غریب عوام کا استحصال کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اور اس کے حامی عناصر سازشوں سے باز آنے والے نہیں ہیں اور اب وہ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے مصنوعی مظاہروں کی شوٹنگ کروا رہے ہیں۔ اکھلیش یادو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ان مظاہروں میں شامل نوجوانوں کو قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا، کیونکہ موجودہ دور میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری نے لوگوں کو اس حد تک مجبور کر دیا ہے کہ وہ معمولی رقم کے لیے بھی ایسے کام کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی پہلے غربت اور بے بسی کو جنم دیتی ہے، پھر انہی مجبور لوگوں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔
انہوں نے بی جے پی کو ایک ”چھل، فریب اور کپٹ پر مبنی زیر زمین گروہ“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بند کمروں میں خفیہ منصوبے بنانے والے یہ عناصر اپنے اعمال کے سبب تاریخ میں سیاہ باب کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ طرز سیاست جمہوری اقدار کے لیے خطرناک ہے اور عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ بی جے پی اور اس کے اتحادی اپنی سیاسی شکست کو قبول نہیں کر پا رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کی 95 فیصد آبادی پر مشتمل پی ڈی اے (پچھڑا، دلت اور اقلیتی) طبقہ جب متحد ہو کر بی جے پی کے خلاف کھڑا ہوگا تو پارٹی کے لیے حالات مزید مشکل ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق یہی خوف بی جے پی کو ایسے ہتھکنڈے اپنانے پر مجبور کر رہا ہے۔
سماجوادی پارٹی کے لیڈر نے یہ بھی الزام لگایا کہ بی جے پی کی بالادستی کی سوچ ہمیشہ پی ڈی اے سماج کو نشانہ بناتی رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل سے کی گئی مبینہ توہین آمیز پوسٹ سیاسی اخلاقیات کے زوال کی علامت ہے، جو ملک کی تاریخ میں درج ہو جائے گی۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات سے سماج میں تقسیم بڑھتی ہے اور جمہوری ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ جب بھی پی ڈی اے سماج کے کسی فرد کی توہین کی جاتی ہے تو اس طبقے کی یکجہتی مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ واقعات نے پی ڈی اے اتحاد کو مزید طاقت دی ہے اور لوگ پہلے سے زیادہ بیدار ہو رہے ہیں۔
انہوں نے بی جے پی پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ دانستہ طور پر اپنے ہی پی ڈی اے طبقے سے تعلق رکھنے والے لیڈروں کا سیاسی مستقبل ختم کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کی پالیسیوں کے باعث ایسے لیڈروں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے اور وہ اپنے اپنے حلقوں میں جوابدہ بن رہے ہیں۔ آخر میں اکھلیش یادو نے کہا کہ 2024 کے عام انتخابات میں عوام نے ایسے لیڈروں کو مسترد کر کے واضح پیغام دے دیا تھا اور آئندہ بھی یہی رجحان برقرار رہے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی کی موجودہ حکمت عملی خود اس کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی اور اس کے سیاسی اثرات دور رس ہوں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…
راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…
پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…
بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…
سی بی ایس ای کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے 2 اگست 2026 کو ملک…
یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…