بین الاقوامی

Earthquake in China amidst Nepal Flood: نیپال میں سیلاب کی تباہی کے درمیان چین میں زلزلہ، سچوان میں 5.1 شدت کے جھٹکے، 47 گلیشیئر جھیلوں کو خطرہ

نئی دہلی: چین کے جنوب مغربی صوبے سچوان میں جمعہ کے روز زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ لونگ چانگ شہر میں دوپہر 1 بج کر 13 منٹ پر 5.1 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا۔ زلزلے کی گہرائی تقریباً 13 کلومیٹر تھی۔ فی الحال کسی نقصان یا جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ چائنا ارتھ کوئیک نیٹ ورکس سینٹر (سی ای این سی) کے مطابق، چین کے جنوب مغربی صوبے سچوان کے لونگ چانگ شہر میں جمعہ کی دوپہر 1:13 بجے (بیجنگ وقت) 5.1 شدت کا زلزلہ آیا۔

13 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا زلزلہ

سی ای این سی کی جانب سے جاری معلومات کے حوالے سے ’چائنا ڈیلی‘ نے بتایا کہ زلزلے کا مرکز 29.23 ڈگری شمالی عرض البلد اور 105.22 ڈگری مشرقی طول البلد پر ریکارڈ کیا گیا۔ سی ای این سی کے مطابق زلزلہ 13 کلومیٹر کی گہرائی میں آیا۔ فی الحال زلزلے سے ہونے والے نقصان یا کسی جانی نقصان کی فوری اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

تباہ کن سیلاب کے درمیان زلزلے سے تشویش

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چین کے پڑوسی ملک نیپال میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا رکھی ہے۔ اس آبی آفت کے کچھ اثرات چین میں بھی دیکھنے کو ملے ہیں۔ ایسے میں زلزلے کے جھٹکوں نے لوگوں کی تشویش مزید بڑھا دی ہے۔

47 گلیشیئر جھیل ’ممکنہ طور پر خطرناک‘؎

انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈیولپمنٹ (آئی سی آئی ایم او ڈی) اور نیپال حکومت کے سائنسی جائزوں کے مطابق 47 گلیشیئر جھیلوں کی شناخت ’ممکنہ طور پر خطرناک گلیشیئر جھیلوں‘ (پی ڈی جی ایل ایس) کے طور پر کی گئی ہے۔ انتباہ دیا گیا ہے کہ ان جھیلوں سے کسی بھی وقت گلیشیئر لیک آؤٹ برسٹ فلڈ (گلوف) آ سکتا ہے، جو نیپال کے دریائی نظام میں تباہ کن سیلاب کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسے میں زلزلہ تباہی کے خطرے کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

21 جھیلیں نیپال، 25 تبت میں واقع

ان 47 جھیلوں میں سے 21 نیپال میں واقع ہیں، جبکہ 25 جھیلیں تبت میں ہیں اور سرحد پار کیٹیگری میں آتی ہیں۔ یہ جھیلیں ان دریاؤں کے بالائی حصوں میں واقع ہیں جو جنوب کی جانب بہتے ہوئے نیپال میں داخل ہوتے ہیں۔ اس لیے ان سے نچلے علاقوں میں آباد برادریوں اور بنیادی ڈھانچے کو ممکنہ خطرہ لاحق ہے۔

بھوٹے کوشی سیلاب میں 469 افراد ہلاک

نیپال کی بھوٹے کوشی ندی میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 469 ہو گئی ہے، جبکہ 977 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ یہ سیلاب اس وقت آیا جب بھوٹے کوشی ندی کی معاون ندی ’لہینڈے‘ کا بہاؤ برفانی تودہ گرنے کے باعث رک گیا۔ اس کے بعد سب سے پہلے نیپال-چین سرحد کے قریب رسوا گڑھی علاقے میں واقع تیمورے گاؤں متاثر ہوا۔

بارش نہ ہونے کے باعث نہیں تھا تباہی کا اندازہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں بارش نہیں ہوئی تھی، اس لیے لوگوں کو اس آفت کے آنے کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔ سیلاب آنے کے وقت لوگ اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں میں مصروف تھے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

White House Praises PM Modi-Trump Rrelationship: وائٹ ہاؤس نے بھارت کو امریکہ کا مضبوط ترین اتحادی قرار دیا، پی ایم مودی اور ٹرمپ کے تعلقات کی بھی تعریف

بھارت اور امریکہ نے مختلف حکومتوں کے ادوار میں دفاع، ٹیکنالوجی، تجارت اور اسٹریٹجک معاملات…

27 minutes ago

Delhi Air Quality: دہلی کی ہوا پھر ہوئی زہریلی، اکتوبر کا پہلا ہفتہ 3 سال میں سب سے زیادہ آلودہ، اوسط اے کیو آئی 171 ریکارڈ

مانسون کی رخصتی کے ساتھ دارالحکومت کی فضائی آلودگی میں اضافہ، 2025 کے مقابلے اس…

9 hours ago

Rahul Gandhi First Reaction After Detained: حراست سے رہائی کے بعد راہل گاندھی کا پہلا ردعمل، کہا-پارلیمنٹ، سڑک اور جنتر منتر پر مضبوطی سے ڈٹے ہیں‘

الیکشن کمیشن کے معاملے پر انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ کا احتجاج دوسرے روز بھی…

10 hours ago

Smriti Mandhana: کپتانی ملنے کے بعد اسمرتی مندھانا کا ہرمن پریت کور کے نام پیغام، کہا- مل کر مزید کامیابیاں حاصل کریں گے

بھارتی خواتین کرکٹ ٹیم کی نئی کپتان اسمرتی مندھانا نے سابق کپتان ہرمن پریت کور…

10 hours ago

Ajit Agarkar Farewell: ’تاریخ آپ کے ساتھ زیادہ نرمی برتے گی‘، اگرکر کی رخصتی پر گمبھیر کے ایک جملے نے کھینچی توجہ

اجیت اگرکر: چیف سلیکٹر کے عہدے سے اجیت اگرکر کے ہٹنے کے بعد گوتم گمبھیر…

10 hours ago