بین الاقوامی

Cuban missile crisis 1962 history: ایٹمی جنگ سے صرف ایک ’بٹن‘ کے فاصلے پر تھی دنیا! جب روس نے امریکہ کے سینے پر تان دیے تھے میزائل

امریکہ نے وینزویلا پر حملہ کر کے وہاں کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا۔ اس امریکی کارروائی پر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ڈونلڈ ٹرمپ کی تعریف کی اور اشارہ دیا کہ روسی صدر کو بھی اسی طرح منصوبہ بندی کر کے گرفتار کیا جانا چاہیے۔اس کے بعد یہ بحث تیز ہو گئی کہ کیا امریکہ واقعی روس کے خلاف اس نوعیت کی کارروائی کر سکتا ہے اور کیا کبھی امریکہ اور روس آمنے سامنے آ کر ٹکرائے ہیں؟ اگرچہ امریکہ اور روس کے درمیان کبھی براہِ راست جنگ نہیں ہوئی، لیکن تاریخ میں ایک موقع ایسا بھی آیا جب ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی وقت ایٹمی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ آخر وہ پورا معاملہ کیا تھا؟ آئیے جانتے ہیں۔

عروج پر تھا سرد جنگ کا دور

سال 1959 تھا۔ امریکہ اور روس کے درمیان سرد جنگ اپنے نہایت خطرناک اور کشیدہ مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ اسی دوران فیڈل کاسترو کی قیادت میں کیوبا میں انقلاب آیا، جس کے بعد امریکہ کیوبا کے خلاف ہو گیا۔ امریکہ نے 1961 میں فیڈل کاسترو کو گرفتار کرنے کے مقصد سے بے آف پگز پر حملہ کیا، تاہم کیوبائی انقلابی جنگجوؤں نے اس حملے کو ناکام بنا دیا۔ امریکی حملے کی ناکامی کے بعد کیوبا نے سوویت یونین سے مدد طلب کی۔ اس وقت کے سوویت رہنما نِکیتا خروشیف نے امریکہ کے خلاف توازن قائم کرنے کے لیے کیوبا میں سوویت میزائل نصب کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے ہی امریکہ ترکی، اٹلی اور برطانیہ میں اپنی جیوپیٹر اور تھور میزائلیں تعینات کر چکا تھا، جن کی رسائی براہِ راست ماسکو تک تھی۔ خروشیف اس صورتحال کو عدم توازن سمجھتے تھے اور کیوبا میں میزائل نصب کر کے امریکہ کو براہِ راست جواب دینا چاہتے تھے۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ کیوبا اور امریکہ کے درمیان فاصلہ محض 90 کلومیٹر ہے۔ امریکہ اپنے پڑوس میں روسی ہتھیاروں کی موجودگی کو کسی صورت برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں تھا اور وہ سوویت یونین پر مسلسل اشتعال انگیزی کے الزامات عائد کرتا رہا۔ 14 اکتوبر 1962 کو امریکہ کے ایک اہم جاسوس طیارے U-2 نے کیوبا کے کچھ علاقوں کی تصاویر لیں، جن سے وہاں سوویت میزائلوں کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی۔ یہ تصاویر امریکی خفیہ ایجنسیوں کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوئیں اور دنیا ایٹمی جنگ کے دہانے پر پہنچ گئی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

9 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

10 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

11 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

12 hours ago