نئی دہلی : سماجی مسائل پر مبنی فلم ‘دی انڈیا اسٹوری: سلو پوائزن’ کا ٹیزر جاری کر دیا گیا ہے، جس میں خوراک میں شامل زہریلے کیمیکلز اور زرعی ادویات (پیسٹی سائیڈز) کے انسانی صحت پر تباہ کن اثرات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ٹیزر اپنی منفرد کہانی اور سنجیدہ موضوع کی وجہ سے شائقین کی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ٹیزر کا آغاز ایک بڑے احتجاجی مظاہرے سے ہوتا ہے، جہاں کسان اور عام شہری وکیل ارچنا، جن کا کردار کاجل اگروال نے ادا کیا ہے، کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مشتعل مظاہرین ان کے پوسٹروں پر سیاہی بھی پھیرتے دکھائی دیتے ہیں۔اس کے بعد عدالت کا منظر سامنے آتا ہے، جہاں شریاس تلپڑے کے کردار یوگیش پانڈے کی درخواست پر سماعت جاری ہے۔ یوگیش کا مؤقف ہے کہ اس کی سات سالہ بیٹی کی موت اگرچہ کینسر سے ہوئی، لیکن درحقیقت یہ ایک قتل تھا، کیونکہ طبی رپورٹس کے مطابق اس کی بیماری کی وجہ روزمرہ استعمال ہونے والی خوراک میں موجود زہریلے کیمیائی مادے تھے۔ فلم میں پھل، سبزیاں، دودھ اور دہی جیسی غذاؤں میں موجود مضر اجزا کا ذکر کیا گیا ہے، جو آہستہ آہستہ انسان کو سنگین بیماریوں میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
اس مقدمے میں وکیل ارچنا نہایت مضبوط اور مدلل انداز میں دلائل پیش کرتی ہیں۔ وہ عدالت میں کہتی ہیں، پھل اور سبزیاں کسان اگاتے ہیں، لیکن جو کمپنیاں زرعی ادویات تیار کرتی ہیں اور جنہیں حکومت اجازت دیتی ہے، وہ بھی اس کے لیے برابر کی ذمہ دار ہیں۔ٹیزر میں یوگیش پانڈے کی ذاتی زندگی کا درد بھی دکھایا گیا ہے۔ وہ اپنی بیمار بیٹی کے علاج کے لیے اسپتالوں کے چکر لگاتا ہے، لمبی قطاروں میں کھڑا رہتا ہے اور ہر دروازے پر انصاف اور مدد کی امید لے کر پہنچتا ہے، لیکن بیٹی کی موت کے بعد اس کا دکھ مزید بڑھ جاتا ہے۔ بعد ازاں وہ انصاف کی تلاش میں پولیس اسٹیشن جاتا ہے، مگر اس کی شکایت کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے اس کی فائلیں پھینک دی جاتی ہیں، جو نظام کی بے حسی اور ایک عام شہری کی بے بسی کی عکاسی کرتا ہے۔ٹیزر میں شریاس تلپڑے کا ایک مؤثر مکالمہ بھی سنائی دیتا ہے، سبز انقلاب کے نام پر اٹھنے والا زہر کا طوفان رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ٹیزر کے اختتام پر ایک چونکا دینے والا منظر بھی دکھایا گیا ہے، جہاں احتجاج کے دوران ایک خاتون کاجل اگروال کے کردار کو تھپڑ مار دیتی ہے۔
فلم ‘دی انڈیا اسٹوری: سلو پوائزن’ زرعی ادویات کے بے دریغ استعمال اور خوراک میں ملاوٹ جیسے سنگین مسائل پر مبنی ہے۔ فلم یہ پیغام دینے کی کوشش کرتی ہے کہ جدید زراعت میں استعمال ہونے والے کیمیائی مادے کس طرح خاموشی سے انسانی صحت کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور اس کے اثرات آنے والی نسلوں تک منتقل ہو سکتے ہیں۔ زی اسٹوڈیوز اور ایم آئی جی پروڈکشن اینڈ اسٹوڈیوز کے بینر تلے بننے والی اس فلم کو ساگر بی شندے نے تحریر اور پروڈیوس کیا ہے۔ یہ فلم 24 جولائی کو دنیا بھر کے سینما گھروں میں ہندی، تیلگو اور تمل زبانوں میں ریلیز کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…
پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…