قومی

Ram Mandir Chadhava Scam: رام مندر کے چندے میں مبینہ بے ضابطگیوں کامعاملہ، منوج جھا بولے: سچ پر پردہ ڈالنے کی کوشش ہو رہی ہے، سماجوادی پارٹی نے کیاسی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ

راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رکنِ پارلیمنٹ منوج جھا نے ایودھیا کے رام مندر میں چندے سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر بڑا بیان دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف کسی ایک سیاسی جماعت کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے ملک کے کروڑوں بھکتوں کے اعتماد اور مذہبی عقیدت سے جڑا معاملہ ہے۔ ان کے مطابق جب مندروں میں دیے جانے والے چندے پر ہی سوالات اٹھنے لگیں تو یہ نہایت سنگین صورتحال ہے، جسے معمولی نہیں سمجھا جا سکتا۔صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے منوج جھا نے کہا کہ حالیہ دنوں میں مختلف مذہبی مقامات سے متعلق مالی بے ضابطگیوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، جس سے عوام کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شری رام اور شیو بھارتی تہذیب و ثقافت کی بنیادی علامتیں ہیں۔ اگر ان سے وابستہ اداروں کی شفافیت پر بھی سوال اٹھنے لگیں تو یہ انتہائی تشویشناک بات ہے۔ ان کا الزام تھا کہ کئی معاملات میں حقیقت پر پردہ ڈالنے یا ’لیپا پوتی‘ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جو مستقبل میں مزید بڑا تنازع بن سکتی ہے۔

قانون و انتظام اور انکاؤنٹر پر سوال

اسی دوران انہوں نے بھرت تیواری انکاؤنٹر کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کے طرزِ عمل پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پر اکثر سچ کو چھپانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ انہوں نے بہار کی امن و امان کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں کئی سنگین مسائل سامنے آ رہے ہیں۔

بہار کی سیاست پر تبصرہ

بہار کی سیاست کا ذکر کرتے ہوئے منوج جھا نے سمراٹ چودھری کے حوالے سے ’سمراٹ سرکار‘ جیسی اصطلاح استعمال کرنے پر اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کے ووٹ سے بنتی ہے، اس لیے کسی ایک فرد کو ’حکومت‘ کہنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔

کوچنگ کلچر اور تعلیمی نظام

منوج جھا نے کہا کہ ملک میں کوچنگ اداروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کا اشارہ ہے کہ کہیں نہ کہیں سرکاری تعلیمی نظام کمزور ہوا ہے۔ ان کے مطابق جب اسکول اور کالج مضبوط نہ ہوں تو کوچنگ انڈسٹری تیزی سے فروغ پاتی ہے۔

ایس آئی ٹی تحقیقات اور غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ

دوسری جانب سماجوادی پارٹی کے لیڈر ادے ویر سنگھ نے بھی رام مندر چندہ معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا کہ تحقیقات میں چھوٹے ملازمین کو آگے کر کے بڑے ذمہ داران کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کے کسی جج کی نگرانی میں سی بی آئی سے کرائی جائے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر الزامات کے باوجود ذمہ دار افراد استعفیٰ نہیں دیتے تو اس سے غیر جانبدارانہ تحقیقات پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔اسی معاملے پر نریپیندر مشرا نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف چوری نہیں بلکہ ’لوٹ مار‘ کا معاملہ ہے۔ ان کا الزام تھا کہ چند چھوٹے ملازمین کو قربانی کا بکرا بنا کر اصل ذمہ داروں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ادھر اپوزیشن نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت واقعی سخت مؤقف رکھتی تو تحقیقات میں تاخیر نہ ہوتی اور کارروائی جلد عمل میں آتی۔اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈروں نے اروند کیجریوال کے ایودھیا دورے پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی عقیدت اور عبادت پر کسی بھی قسم کی پابندی یا سیاسی مداخلت مناسب نہیں ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

World Rhino Day 2026: ورلڈ رائنو ڈے پر پی ایم مودی کا بڑا اعلان، ’پروجیکٹ رائنو‘ شروع، آسام میں دنیا کے 80 فیصد گینڈے

وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر گینڈوں کے تحفظ سے متعلق…

36 minutes ago

Asian Games 2026: ایشین گیمز میں بھارت کا ڈنکا، خواتین ٹیم نے جیتا گولڈ میڈل، وزیر داخلہ امت شاہ نے دی مبارکباد

بھارتی خواتین ٹیم کی اس تاریخی اور ریکارڈ ساز جیت پر مرکزی وزیر داخلہ امت…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: ’مکسڈ مارشل آرٹس میں بھارت کا تاریخی کمال…‘، وزیر اعظم نریندر مودی نے سچیکا تاریال کو دی مبارکباد

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر سچیکا تاریال کو مبارکباد…

2 hours ago