انٹرٹینمنٹ

Javed Siddiqui Became the Dialogue Writer: ستیہ جیت رے سے ’ڈیڑھ منٹ‘ کی ملاقات میں جاوید صدیقی بنے تھے مکالمہ نگار، ایسے تیار ہوئی تھی ’شطرنج کے کھلاڑی‘ کی اسکرپٹ

ستیہ جیت رے کا سنیما حقیقت پسندانہ تھا۔ اس میں مار دھاڑ، ناچ گانا یا خوابوں کی دنیا نہیں تھی۔ ان کی فلموں میں بھوک، غربت، سماجی ناانصافی اور صدیوں سے مظلوم خواتین کی تکالیف کو دکھایا گیا۔ ممبئی کے تجارتی سنیما اور ان کے سنجیدہ سنیما میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ انہوں نے سماجی مسائل پر تخلیقی انداز میں روشنی ڈالی۔1956 میں کان فلم فیسٹیول میں اپنی پہلی فلم دکھا کر انہوں نے بھارتی سنیما کو عالمی سطح پر نئی پہچان دلائی۔ تاہم وہ اپنی ہر فلم کے چھوٹے سے چھوٹے حصے کو بڑی مہارت سے نکھارتے تھے۔

جاوید صدیقی کے فلمی سفر کی شروعات

مصنف جاوید صدیقی نے ایک انٹرویو میں ستیہ جیت رے اور ان کی فلم ’شطرنج کے کھلاڑی‘سے جڑی یادیں شیئر کی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ‘شطرنج کے کھلاڑی’ ان کے فلمی سفر کی شروعات تھی۔ اس سے پہلے انہوں نے کوئی فلم نہیں لکھی تھی۔ صحافت چھوڑنے کے بعد ان کی دوست مصنفہ شما زیدی نے بتایا کہ ستیہ جیت رے ان سے ملنا چاہتے ہیں۔ پہلے تو جاوید صدیقی نے اسے مذاق سمجھا، مگر وہ ممبئی کے ایک ہوٹل میں پہنچ گئے۔وہ بتاتے ہیں کہ ستیہ جیت رے کی آواز بہت گہری اور بااثر تھی۔ انہوں نے خود دروازہ کھولا۔ وہ تقریباً چھ فٹ دو انچ لمبے تھے اور سفید کھادی کا کرتا پاجامہ پہنے ہوئے تھے۔ ان کی شخصیت بہت پرکشش تھی۔ وہ سوچتے وقت عینک کی ڈنڈی یا رومال کا کونا چبانے لگتے تھے۔

مجھے نہیں معلوم آپ نے کیا لکھا ہے، مگر اس کی آواز بہت شاندار ہے

ستیہ جیت رے نے جاوید صدیقی سے کہا، ’’مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ بہت اچھے کہانی کار ہیں۔‘‘ جاوید صدیقی نے جواب دیا کہ وہ اردو میں لکھتے ہیں۔ اس پر رے نے کہا، ’’یہ میری اسکرپٹ ہے، آپ ڈائیلاگ لکھیں۔‘‘ یہ پوری ملاقات صرف ڈیڑھ منٹ کی تھی، جس پر جاوید صدیقی حیران رہ گئے۔بعد میں وہ شما زیدی کے پاس گئے اور پوچھا کہ ڈائیلاگ کیسے لکھے جاتے ہیں۔ ڈائیلاگ مکمل ہونے کے بعد پروڈیوسر سریش جندل کافی گھبرائے ہوئے تھے کیونکہ فلم نہایت اہم تھی اور دنیا اس کا انتظار کر رہی تھی۔ ممبئی میں تقریباً 20 افراد کی ایک نشست میں جاوید صدیقی نے شروع سے آخر تک ڈائیلاگ پڑھ کر سنائے۔ سب خاموش رہے۔ تب رے کی آواز آئی، “مجھے نہیں معلوم آپ نے کیا لکھا ہے، مگر اس کی آواز بہت شاندار ہے۔” یہ جملہ جاوید صدیقی کبھی نہیں بھول سکے۔

’مانک دا‘ سے بہت کچھ سیکھا

ستیہ جیت رے کو ان کے قریبی لوگ ’مانک دا‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ بے حد محنتی تھے۔ فلم سازی میں وہ خود کیمرہ چلاتے، بیک گراؤنڈ میوزک دیتے اور ایڈیٹنگ بھی خود دیکھتے تھے۔ وہ چھوٹی سے چھوٹی بات پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ زندگی کی تمام مشکلات کے باوجود انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کا سنیما ہمیشہ سماج کی حقیقتوں پر مبنی رہا۔جاوید صدیقی کے مطابق، انہوں نے ’مانک دا‘ سے بہت کچھ سیکھا۔ وہ فلم کو گہرائی سے محسوس کر کے بناتے تھے۔ ستیہ جیت رے کی محنت، لگن اور حقیقت پسندی ہمیشہ فلم سازوں کو متاثر کرتی رہے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Abul Kalam

Recent Posts

Balaji Wafers Destroyed Lays: غریب لڑکے سے 4 ہزار کروڑ کی کمپنی تک، بالاجی نے Lay’s کو دی ٹکر

گجرات سے شروع ہونے والا بالاجی ہے، جس نے محدود وسائل سے سفر شروع کیا…

57 minutes ago

Rahul Gandhi Event Row: ’چھاتروں کی گونج‘ میں پی ایم مودی کی مِمی کری پر ہنگامہ، این ڈی اے کا حملہ، اپوزیشن نے کہا- اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش

راہل گاندھی کی موجودگی میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران وزیراعظم نریندر مودی کی…

1 hour ago

Sachkhand Nanak Dham Satsang: سچکھنڈ نانک دھام میں گونجے ’واہے گرو‘ کے جے کارے، سنت لوچن درشن داس جی نے دیا بے لوث خدمت کا پیغام

پنجاب کے بٹالہ میں اچل بائی پاس واقع سچکھنڈ نانک دھام درشن دربار میں اتوار،…

2 hours ago

Pricing Carbon To Defend Exports: یورپی ٹیکس کا توڑ بنا بھارت کا ’کاربن کریڈٹ ٹریڈنگ سسٹم‘، برآمد کنندگان کو ملے گی بڑی راحت

بھارت میں اکتوبر سے ملک کی پہلی کاربن مارکیٹ شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس…

2 hours ago

Yemen Houthis Toyota Pickup Trucks: راکٹ نہیں، میزائل نہیں… یمن میں 38,000 سے زائد ٹویوٹا ٹرکوں کی آمد، دنیا بھر میں تشویش

یمن کے جنگ زدہ علاقوں میں ٹویوٹا پک اَپ ٹرکوں کی اچانک بڑھتی ہوئی تعداد…

3 hours ago