نئی دہلی :اداکارہ سانوی تلوار نے اپنے کیریئر کے ایک پرانے تنازع پر طویل عرصے بعد خاموشی توڑتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی حساس معاملے پراسی وقت بات کرنی چاہیے، جب انسان خود کو ذہنی اور جذباتی طور پر مکمل طور پر تیار محسوس کرے۔ انہوں نے خواتین کو بھی پیغام دیا کہ اگر وہ کسی وجہ سے کسی واقعے کے فوراً بعد اپنی آواز نہیں اٹھا سکیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ بہت دیر ہو چکی ہے، بلکہ جب بھی وہ خود کو تیار محسوس کریں، اپنی بات ضرور سامنے رکھیں۔آئی اے این ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سانوی تلوار نے کہا کہ ہر انسان کو اپنے تجربات اور جذبات کا اظہار اپنی سہولت اور آمادگی کے مطابق کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کسی پر بھی یہ دباؤ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کسی ناخوشگوار واقعے کے فوراً بعد ہی اس کے بارے میں بات کرے۔ ان کے مطابق صحیح وقت وہی ہوتا ہے جب متاثرہ شخص ذہنی اور جذباتی طور پر خود کو مضبوط محسوس کرے۔
قابلِ ذکر ہے کہ سانوی تلوار نے ٹی وی شو ’’یہ کہاں آ گئے ہم‘‘ میں اداکار کرن کندرا کے ساتھ کام کیا تھا۔ اسی دوران انہوں نے کرن کندرا پر مبینہ طور پر نامناسب رویے کے الزامات عائد کیے تھے۔ سانوی کا دعویٰ تھا کہ شوٹنگ کے دوران کرن کندرا نے ان کی رضامندی کے بغیر انہیں بوسہ دیا اور تھپڑ بھی مارا۔ اس وقت اس معاملے میں شو کی پروڈیوسر ایکتا کپور نے مداخلت کی تھی، جس کے بعد ہدایت کاری کی ٹیم میں تبدیلیاں کی گئی تھیں۔ ان الزامات کے بارے میں کرن کندرا کی جانب سے اس وقت اپنا مؤقف بھی سامنے آیا تھا، تاہم سانوی نے اس انٹرویو میں صرف اپنے تجربات اور اس سے حاصل ہونے والے سبق پر بات کی۔سانوی نے کہا کہ پہلے وہ اپنی ذاتی باتیں صرف ان لوگوں سے شیئر کرتی تھیں جن پر انہیں اعتماد ہوتا تھا، کیونکہ نجی معاملات جب زیادہ لوگوں تک پہنچتے ہیں تو اکثر ان کا مفہوم بدل جاتا ہے اور حقیقت مختلف انداز میں پیش کی جانے لگتی ہے۔ ان کے مطابق اب وہ اپنی بات کھل کر کہنے میں خود کو زیادہ پُراعتماد محسوس کرتی ہیں، کیونکہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے اور انہیں اس بات کی فکر نہیں کہ لوگ ان کے بارے میں کیا رائے قائم کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی شخص کو یقین ہے کہ اس کے ساتھ غلط ہوا ہے اور اس کی بات سامنے آنا ضروری ہے تو اسے ضرور اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔ ہر فرد کے لیے اپنے جذبات کا اظہار کرنے کا انداز مختلف ہوتا ہے، اس لیے کسی کے فیصلے پر سوال نہیں اٹھانا چاہیے۔خواتین کے نام اپنے پیغام میں سانوی تلوار نے کہا کہ اگر کسی خاتون کے ساتھ کوئی غلط واقعہ پیش آیا ہو اور وہ اس وقت خاموش رہی ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب وہ کبھی اپنی بات نہیں رکھ سکتی۔ ان کے مطابق جب بھی کوئی خاتون خود کو ذہنی طور پر تیار محسوس کرے، اسے آگے آکر اپنی کہانی ضرور بیان کرنی چاہیے، کیونکہ اگر متاثرہ افراد خاموش رہیں گے تو حقیقت کبھی سامنے نہیں آ سکے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اپنی آواز اٹھانا ضروری ہے، لیکن اس کے لیے مناسب وقت اور مضبوط ذہنی کیفیت بھی اتنی ہی اہم ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…
پارلیمنٹ کے ستمبر کے آخر میں ممکنہ خصوصی اجلاس کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔…