نئی دہلی: لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے قومی راجدھانی میں طلبہ مظاہرین کے خلاف پولیس کارروائی کو لے کر مرکزی حکومت پر اپنا حملہ جاری رکھتے ہوئے اتوار کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مبینہ طور پر مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال پر سخت سوالات کیے۔ مرکزی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد راہل گاندھی کا یہ بیان 20 جولائی کو ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کی قیادت میں نکالی گئی ’سنسد چلو‘ ریلی کے دوران پولیس کارروائی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں سوال کیا کہ کیا امت شاہ نے نیٹ-یو جی پیپر لیک معاملے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پیلیٹ گن اور آنسو گیس سمیت ’’مہلک طاقت‘‘ کے استعمال کی ذاتی طور پر منظوری دی تھی؟
19 سالہ طالب علم کی آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ
راہل گاندھی نے 19 سالہ طالب علم ساحل لوچاب کے معاملے کا بھی ذکر کیا، جس کے بارے میں مبینہ طور پر پیلیٹ لگنے کے بعد ایک آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’دہلی میں پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پیلیٹ گن، لاٹھی اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ میں 19 سالہ ساحل لوچاب سے ملا۔ پیلیٹ لگنے کے بعد اس کی ایک آنکھ ضائع ہو سکتی ہے۔ اس کا ’جرم‘ کیا تھا؟ پیپر لیک ختم کرنے اور طلبہ کے منصفانہ مستقبل کا مطالبہ کرنا۔‘‘
سادہ لباس میں موجود افراد پر بھی سوال
راہل گاندھی نے امت شاہ سے دو سوالات کرتے ہوئے کہا ’’کیا آپ نے طلبہ کے خلاف پیلیٹ گن سمیت مہلک طاقت کے استعمال کی منظوری دی؟ اگر نہیں، تو کس نے دی؟ سادہ لباس میں لاٹھیوں سے طلبہ کو پیٹنے والے افراد پولیس اہلکار تھے یا رضاکار؟ ان کی تعیناتی کی اجازت کس نے دی؟ ملک جواب مانگ رہا ہے۔‘‘
’کس نے طلبہ کو مارنے کا حکم دیا؟‘
راہل گاندھی نے امت شاہ کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے طلبہ کے خلاف ’’بلاامتیاز طاقت‘‘ کا استعمال کیا اور خواتین مظاہرین کو بھی پولیس اہلکاروں کی جانب سے نشانہ بنا کر مبینہ طور پر مارا پیٹا گیا۔ انہوں نے اس کارروائی کو ’’وحشیانہ حملہ‘‘ قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ ’’طلبہ کو مارنے کا حکم کس نے دیا؟‘‘ راہل گاندھی نے خط میں وزیر داخلہ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دہلی میں تعینات سکیورٹی فورسز بالآخر وزیرداخلہ کے ماتحت ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا امت شاہ نے طلبہ کے خلاف پیلیٹ گن سمیت مہلک طاقت کے استعمال کی منظوری دی تھی؟ اگر نہیں، تو کس نے دی؟ سادہ لباس میں لاٹھیوں سے طلبہ کو پیٹنے والے افراد پولیس اہلکار تھے یا رضاکار؟ ان کی تعیناتی کی اجازت کس نے دی؟
’پرامن احتجاج ہر جمہوریت کے لیے ضروری‘
راہل گاندھی نے کہا کہ پرامن احتجاج کسی بھی جمہوریت کے لیے انتہائی اہم ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مظاہرین کی حفاظت کرے اور بات چیت کے ذریعے ان کی شکایات کا حل تلاش کرے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کا وحشیانہ تشدد تمام جمہوری اصولوں کو تباہ کر دیتا ہے اور اس سے ملک میں غم و غصہ پیدا ہوا ہے۔ ملک کا مستقبل نوجوان اور طلبہ جواب اور جواب دہی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور ان کی آواز سنی جائے گی۔
کئی ہفتوں سے جاری تھا طلبہ کا احتجاج
یہ معاملہ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کی قیادت میں کئی ہفتوں سے جاری طلبہ احتجاج کے بعد سامنے آیا ہے۔ سماجی کارکن سونم وانگچک کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال شروع کرنے کے بعد اس احتجاج نے قومی توجہ حاصل کی تھی۔ 20 جولائی کو ’سنسد چلو‘ مارچ کے دوران کشیدگی اس وقت بڑھ گئی، جب پارلیمنٹ کی جانب بڑھنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے مبینہ طور پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ مسلسل احتجاج کے بعد دھرمیندر پردھان نے مرکزی وزیر تعلیم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جبکہ اتوار کو پرہلاد جوشی نے مرکزی وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھال لیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
۔بل گیٹس نے این بی سی کی کرسٹن ویلکر سے گفتگو میں کہا، ’’اے آئی…
29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے…
کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…
فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے لیڈر کیپٹن…
آئچی-ناگویا ایشین گیمز 2026 میں بھارتی ایتھلیٹس نے ٹریک اینڈ فیلڈ میں دو سلور اور…