بین الاقوامی

US Halts Strikes on Iran: امریکہ نے ایران پر فضائی حملے عارضی طور پر روکے، نائب صدر جے ڈی وینس اور جنرل ڈین کین نے کشیدگی بڑھنے پر کیا تشویش کا ظاہر

نئی دہلی : امریکہ نے ایران کے خلاف جاری فضائی حملوں کو عارضی طور پر روک دیا ہے، جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو وائٹ ہاؤس میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کا جائزہ لیا، جس کے بعد حملوں کو فی الحال روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔سی این این نے اس معاملے سے واقف ایک ذریعے اور ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ تقریباً دو ہفتوں تک مسلسل فضائی حملوں کے بعد امریکہ نے جمعہ کی رات ایران کے خلاف بمباری کی مہم روک دی۔ امریکی محکمہ دفاع کے ایک ذریعے نے ہفتہ کو بھی تصدیق کی کہ فوجی آپریشن اس وقت “روکے” گئے ہیں، تاہم انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق جنرل ڈین کین نے اجلاس کے دوران خاص طور پر امریکی اسلحے کے ذخائر میں ممکنہ کمی اور خطے میں مزید کشیدگی کے خطرات پر خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ اور اعلیٰ فوجی قیادت کو بتایا کہ اگرچہ موجودہ فوجی منصوبوں پر مؤثر انداز میں عمل کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کے ممکنہ نتائج اور طویل المدتی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس اہم میٹنگ میں اسلحے کے ذخائر، علاقائی سلامتی، ایران کے ممکنہ ردعمل اور سفارتی امکانات سمیت کئی اہم نکات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حملے روکنے کا فیصلہ صرف اسلحے کے ذخائر سے متعلق خدشات کی بنیاد پر کیا گیا یا کشیدگی میں اضافے کے خطرات اور دیگر عوامل بھی اس فیصلے کا سبب بنے۔وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشن ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ نے ایک بیان میں کہا کہ صدر ٹرمپ ہمیشہ سفارتی حل کو ترجیح دیتے رہے ہیں، تاہم اگر ایران آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا کرتا ہے یا امریکہ کے اتحادیوں کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کی حمایت جاری رکھتا ہے تو تمام آپشنز بدستور کھلے رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران پر عائد سخت اقتصادی پابندیوں اور گزشتہ 13 روز کے دوران اس کی فوجی تنصیبات پر کیے گئے حملوں کے بعد تہران کے لیے یہی بہتر ہوگا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرے، بصورت دیگر اسے نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب، کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ مشیروں کے ساتھ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی حکام ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں میں مسلسل مصروف ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ فضائی حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع کر سکتا ہے یا انہیں مزید شدت بھی دی جا سکتی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موجودہ مذاکرات کے دوران ایران کا رویہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ سنجیدہ دکھائی دے رہا ہے، جس سے سفارتی پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو 

Abu Danish Rehman

Recent Posts

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

2 hours ago

Major Plane Crash in Congo: کانگو میں بڑا طیارہ حادثہ، 2 فوجی افسران سمیت 14 افراد ہلاک

فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…

2 hours ago