تخلص: عاجز
اصلی نام: کلیم احمد
پیدائش: 11 اکتوبر 1926، تلہرا، نالندہ (بہار)
وفات: 14 فروری 2015، پٹنہ
کلیم عاجز محض شاعر نہیں، ایک مکمل ادبی شخصیت تھے۔ ان کے کلام میں میر تقی میر کی سی چاشنی، بہارکے تہذیبی شائستگی اور غزل کی کلاسیکی روح نظر آتی ہے۔ ان کا تعلق بہار کی علمی و تہذیبی فضا سے تھا جہاں اردو کو ایک زندہ زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے پٹنہ یونیورسٹی سے اردو میں ایم. اے. کیا اور بعد ازاں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ ’’بہار میں اردو ادب کا ارتقا‘‘ آج بھی ایک اہم ماخذ کے طور پر موجود ہے۔
درد ایسا ہے کہ جی چاہے ہے زندہ رہیے
زندگی ایسی کہ مرجانے کو جی چاہے ہے
کلیم عاجزؔ
شعری مجموعے:
وہ جو شاعری کا سبب ہوا (1975)
جب فصل بہاراں آئی تھی (1990)
ابھی سن لو مجھ سے (1992)
کوچہ جاناں جاناں (2002)
نثری و تحقیقی خدمات:
مجلس ادب (تنقیدی مضامین)
دفتر گم گشتہ (تحقیقی مقالات)
یہاں سے کعبہ، کعبہ سے مدینہ (سفر حج)
ایک دیش ایک بدیسی (سفرنامہ امریکہ)
کلیم عاجز کے شعری مجموعے نہ صرف ادبی حلقوں بلکہ عام قارئین میں بھی بے حد مقبول ہوئے۔ وہ لال قلعہ دہلی کے مشاعروں میں دہائیوں تک بہار کی نمائندگی کرتے رہے۔ انہیں حکومت ہند کی جانب سے پدم شری کے اعزاز سے نوازا گیا۔ 14 فروری 2015 کو وہ اس دار فانی سے کوچ کرگئے اور ان کا جنازہ گاندھی میدان، پٹنہ میں لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں ادا کیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مہاراشٹر کے ممبئی میں جمعرات کو ایک لیبر کیمپ میں بھیانک آگ لگنے کے بعد…
ملاقات کے بعد وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔…
سلیم انجینئر نے کہا کہ میڈیا کی ایسی رپورٹوں کو پڑھ کر بھی تشویش ہوتی…
21 جون 1950 کو ٹورنٹو میں پیدا ہونے والی اینی کارسن نے اپنے پورے ادبی…
انڈین فیسٹیول 2026: فلیپ کارٹ بگ بلین ڈیز اور ایمیزون گریٹ انڈین فیسٹیول سیل شروع…
انڈین مسلمز فار سول رائٹس کے چیئرمین، 51 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی آف انڈین مسلمز کے…