ایچ آئی وی ایک بہت خطرناک وائرس ہے۔ ڈاکٹر اورسائنس داں ایک عرصے سے اس کے علاج کی تلاش میں ہیں۔ اس پر پوری دنیا میں خوف وہراس اورتشویش بنی ہوئی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہےکہ پیر 10 فروری کو اقوام متحدہ کے ایڈز ایجنسی (UNAIDS) کے سربراہ نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ کا سپورٹ ختم ہوجاتا ہے اوراسے فوری طور پر معاوضہ نہیں دیا جاتا ہے، تو سال 2029 تک ایچ آئی وی کے انفیکشن میں 6 گنا تک اضافہ ہوسکتا ہے۔ جس کی وجہ سے لاکھوں جانیں ضائع ہو سکتی ہیں اور ایڈز کی مزید خطرناک قسمیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
دنیا میں ایڈز کے کتنے مریض ہیں؟
UNAIDS کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر Winnie Byanyima نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ پچھلے کچھ سالوں میں HIV کے انفیکشن میں کمی آئی ہے۔ 2023 میں صرف 13 لاکھ نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جو 1995 کے مقابلے میں 60 فیصد کم ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک 90 دنوں کے لیے تمام غیر ملکی امداد یعنی فنڈنگ روک دے گا۔ اگر ایسا ہوا تو ایڈز سے بچاؤ کی مہم کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے۔
اگر امریکہ امداد روکتا ہے تو کیا ہوگا؟
Winnie Byanyima نے کہا ہے کہ، اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2029 تک ایچ آئی وی کے 87 لاکھ نئے کیسز ہو سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں 63 لاکھ افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے 34 لاکھ بچے یتیم ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی حکومت نے اپنا فیصلہ نہ بدلا تو حالات بد سے بدتر ہو سکتے ہیں۔ اس سے بیماریاں بڑھیں گی اور مزید اموات ہو سکتی ہیں۔
UNAIDS کی اپیل
اقوام متحدہ کے ایڈز کے سربراہ نے امریکی صدر ٹرمپ سے اپیل کی کہ وہ اچانک فنڈنگ بند نہ کریں کیونکہ اس سے کئی افریقی ممالک میں خوف کی فضا پیدا ہو جائے گی۔ اس وجہ سے کینیا میں ایک کاؤنٹی سے 550 ایچ آئی وی کارکنوں کو نکال دیا گیا ہے. ایتھوپیا میں ہزاروں لوگوں کو کام پر نہ آنے کو بھی کہا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے محکمہ صحت کے حکام کو وبا کی نگرانی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ زیادہ تر ممالک میں ایچ آئی وی سے بچاؤ کے لیے جو مہم چلائی جا رہی ہے ،ان میں سے 90 فیصد امریکہ سے آتی ہیں۔
بھارت ایکسپریس
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…
سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…
وزارت خارجہ نے کہا، وزیر اعظم نریندر مودی نے شی جن پنگ سے ملاقات میں…
یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…
نئے کسٹمز معاہدے سے کلیئرنس میں تاخیر کم ہونے کی امید، اے ای او پروگرام…