علاقائی

Bridge collapses in Bihar: بہار میں تھمتا نظر نہیں آرہا پل گرنے کا سلسلہ، حکومت پر اٹھنے لگے ہیں سوال، جانئے اب کہاں پیش آیا اس طرح کا واقعہ

پٹنہ: بہار میں پل اور پلیوں کے گرنے یا نقصان پہنچنے کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ 11 دنوں میں پانچ پل گر چکے ہیں۔ پل گرنے کے واقعات کے درمیان اب حکومت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ حالانکہ، حکومت پل کے ٹوٹنے یا گرنے کے واقعے کی تحقیقات کی بات ضرور کر رہی ہے۔

یہاں پل گرنے کے واقعات کے بعد ہوش میں آنے والی حکومت اب پلوں کی کمزوری جاننے اور نئے پلوں کو مضبوط بنانے کے لیے تمام دیہی پلوں کا اسٹرکچرل آڈٹ کرانے جا رہی ہے۔ اس کا مقصد سرکاری فنڈز کے صحیح استعمال کو یقینی بنانا اور جان و مال کے تحفظ کو بھی یقینی بنانا ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ بہار میں پل گرنے یا ٹوٹنے کے واقعات اس حکومت میں ہو رہے ہیں۔ ریاست میں حکومت چاہے گرینڈ الائنس کی ہو یا این ڈی اے کی، پل گرتے رہے ہیں اور اپوزیشن حکومت پر سوال اٹھاتی رہی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ بہار میں پلوں اور پلیوں کی دیکھ بھال کے حوالے سے کوئی پالیسی نہیں ہے جس کی وجہ سے پرانے پلوں کی نگرانی نہیں کی جاتی ہے اور جو پل اور کلورٹ بنائے جا رہے ہیں ان میں تعمیراتی سامان کے معیار کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔

حالانکہ، حکومت اب اس معاملے کے تعلق سے بیدار نظر آ رہی ہے۔ رورل ورکس ڈیپارٹمنٹ نے اب پلوں اور پلیوں کا آڈٹ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لیے مقامی سطح پر محکمانہ انجینئرز اور افسران کو تعینات کیا جائے گا۔ ہر روز آڈٹ سے جمع ہونے والی معلومات محکمہ جاتی ایپ کے ذریعے ہیڈ کوارٹر کو بھیجی جائیں گی۔ اس بنیاد پر ہیڈ کوارٹر کی سطح سے نگرانی کی جائے گی۔

تمام ڈیٹا اکٹھا کرنے کے بعد اس کی دوبارہ جانچ کے انتظامات کیے جائیں گے۔ جمع کی گئی تمام معلومات کی بنیاد پر پل کا گریڈ تیار کیا جائے گا اور اس کے بعد پل کی مرمت یا مکمل تعمیر نو پر غور کیا جائے گا۔

قابل ذکر ہے کہ 18 جون کو ارریہ کے سکتی بلاک کے بکرا ندی پر افتتاح کے لیے تیار پل اچانک گر گیا تھا۔ اس معاملے کو لے کر روڈ کنسٹرکشن ڈپارٹمنٹ نے فوری طور پر کئی انجینئروں کو معطل کر دیا اور ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی اور انہیں تحقیقات کی ذمہ داری دی گئی۔

پلوں کے گرنے کو لے کر ریاست میں کافی سیاست ہوئی ہے۔ اگر ہم اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو پچھلے دو سالوں میں ریاست میں نو چھوٹے اور بڑے پل منہدم یا تباہ ہوئے ہیں۔

گزشتہ 11 دنوں میں سیوان، ارریہ، مشرقی چمپارن، کشن گنج میں پل ٹوٹنے کے بعد جمعہ کے روز مدھوبنی کی بھتہی بالن ندی پر زیر تعمیر پل کا گرڈر گر گیا۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Mokama MLA Anant Singh: دلار چند یادو قتل معاملے میں اننت سنگھ کی مشکلات میں اضافہ، سپریم کورٹ نے سرینڈر کرنے کا دیا حکم

بہار کے موکاما سے رکن اسمبلی اننت سنگھ کو سپریم کورٹ سے جھٹکا، عدالت نے…

2 minutes ago

West Bengal Textbook Updates: اب بنگال کے بچے ’پانی‘ نہیں ’جل‘ پڑھیں گے، نصاب میں بڑی تبدیلیوں کی تجویز

تاریخ کی کتابوں میں اتر پردیش کے سنولی اور ہریانہ کے راکھی گڑھی میں ہونے…

18 minutes ago

Prime Minister Narendra Modi: گجرات کے بناس کانٹھا میں وزیر اعظم نریندر مودی کا روڈ شو، سڑکوں پر امڈے لوگوں نے کیا شاندار استقبال

وزیر اعظم نریندر مودی نے ’بھارت بووائن بریڈنگ اینڈ ریسرچ سینٹر‘ کے مویشی فارم کا…

23 minutes ago

Azmatullah Omarzai: عظمت اللہ عمرزئی نے ریکارڈ سنچری کے ساتھ ہی توڑا پولارڈ، شناکا اور اسٹبس کے چھکوں کا ریکارڈ

زمبابوے کے خلاف 50 گیندوں پر 116 رنز کی دھواں دار اننگز کھیلی، چھٹے یا…

48 minutes ago

Cyclone Arnab: چکرواتی طوفان ’ارنب‘ کے باعث بہار کے دو اضلاع میں ریڈ الرٹ، دیگر علاقوں کے لیے بھی وارننگ جاری

محکمہ موسمیات نے سیتامڑھی اور مدھوبنی میں انتہائی شدید بارش اور آسمانی بجلی گرنے کا…

1 hour ago