بھارت ایکسپریس۔
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی۔ (فائل فوٹو)
ریاست ہریانہ کے ضلع نوح میں چند ایام قبل فرقہ وارانہ تشدد کا معاملہ منظر عام پر آیا تھا،جس کے بعد ملک کے چپہ چپہ میں اس معاملہ پر بحث ہونے لگی،ایوان میں بھی یہ معاملہ اٹھایا گیا،اراکین پارلیمنٹ نے خاص کر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور حیدر آباد سے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملہ پر کچھ بولیں۔
ادھر ہریانہ میں کھاپ پنچائیتوں کی جانب سے ایک میٹنگ کا اہتمام کیا گیا،جس میں کئی معاملہ پر غور و خوض کیا گیا۔ ادھراسد الدین اویسی نہ ہریانہ حکومت پر الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت کھاپ پنچائتیوں کے دباؤ میں کام کر رہی ہے اور ہندوستانی تہذیب و ثقافت کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ایم آئی ایم کے سربراہ اسد اویسی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ کھاپ پنچایتوں کے دباؤ می، بی جے پی ہریانہ میں ہندو شادی کے قانون کو تبدیل کر رہی ہے کیونکہ ہم جنس شادی ہریانوی ہندو تہذیب کے خلاف ہے۔ ’’ایک ملک ایک قانون‘‘ کی بات کرنے والے کہاں گئے؟ یو سی سی کا مقصد صرف مسلمانوں کو نشانہ بنانا ہے، لیکن ہندو سماج کو غور کرنا ہوگا کہ اس کا ان کی ثقافت اور ان کی خاندانی زندگی پر کیا اثر پڑے گا۔ کیا وہ خود مسلمانوں کو ’سبق‘ سکھانے کے عمل میں اپنے حقوق سے محروم ہو جائیں گے؟
بھارت ایکسپریس۔
مہاراشٹر میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے خلاف ایم این ایس اور شیوسینا (یو…
مشاق خان کی آخری رسومات میں بڑے فلمی ستاروں کی عدم شرکت پر رضا مراد…
اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ہفتے کے روز نئی دہلی میں…
بوکارو میں میچ کے دوران 37 سالہ کھلاڑی کجرا مرمو دوسرے کھلاڑی سے ٹکرانے کے…
کیرالہ کے سابق چیف سیکریٹری جیجی تھامسن کے دعوے کے بعد کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل…
سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی مجوزہ عوامی ریلی سے قبل سیاسی کشیدگی دیکھنے کو…