ہندوستان تیزی سے اپنی پیداواری صلاحیت کو دوگنا کرکے Semiconductor مینوفیکچرنگ کا عالمی مرکز بننے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ Jefferies کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومتی پالیسیاں، بڑھتی ہوئی طلب، کم لاگت اور مغربی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات اس شعبے کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی مالی مدد، کم لاگت پروڈکشن، ہنر مند ڈیزائن ورک فورس اور بڑھتی ہوئی مانگ بھارت کو Semiconductor سیکٹر میں ایک بڑی طاقت بن سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا، ’’جس طرح ہندوستان نے آٹوموبائل سیکٹر میں کامیابی حاصل کی ہے، اسی طرح ہندوستان Semiconductor سیکٹر میں بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔‘‘
بڑی سرمایہ کاری زور پکڑ رہی ہے
ہندوستان کا یہ خواب اب سرمایہ کاروں کا بھی اعتماد جیت رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس شعبے میں اب تک 18 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کی جا چکی ہے۔ ان میں 5 بڑے منصوبے شامل ہیں، جن میں سب سے بڑا ٹاٹا الیکٹرانکس اور تائیوان کے PSMC کا 11 بلین ڈالر چپ فیب پروجیکٹ ہے۔ یہ 2026 تک شروع ہونے کی امید ہے۔
Jefferies نے کہا کہ حکومت 2030 تک الیکٹرانکس کی پیداوار کو چار گنا بڑھا کر 500 بلین ڈالر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ہندوستان کا الیکٹرانکس سیکٹر تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ ڈیجیٹل اپنانے کا بڑھتا ہوا رجحان اور بڑھتی ہوئی آمدنی الیکٹرانک مصنوعات کی مانگ کو بڑھا رہی ہے۔ ہندوستان نے مالی سال 2024 میں 60 بلین ڈالر کی الیکٹرانکس درآمد کیں۔ یہ ملک کے کل تجارتی خسارے کا 25فیصد ہے، جو تیل کے بعد دوسرا سب سے بڑا حصہ دار ہے۔
ملکی پیداوار بڑھانے پر حکومت کا زور
الیکٹرانکس کی بڑھتی ہوئی درآمد کے پیش نظر حکومت نے ملکی پیداوار کو فروغ دینے کے لیے 10 بلین ڈالر کا مراعاتی پروگرام شروع کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت حکومت چپ اور ڈسپلے فیبس، جانچ کی سہولیات اور دیگر منصوبوں کی لاگت کا 50 فیصد برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ریاستیں 20 فیصد اضافی مراعات دے رہی ہیں، جس سے کل مالی امداد کو 70 فیصد تک لے جایا جا رہا ہے۔
ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ سے 80,000 سے زیادہ ملازمتیں پیدا ہونے کی امید ہے۔ حکومت صرف چپ مینوفیکچرنگ تک محدود نہیں ہے ،بلکہ پوری سپلائی چین کو تیار کرنے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ اس میں کیمیکل، گیس، آلات اور دیگر ضروری اجزاء شامل ہیں۔
چیلنجز بھی کم نہیں ہیں
قابل ذکر بات یہ ہےکہ بھارت کو اب بھی کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ناکافی سپلائی چین، محدود مینوفیکچرنگ مہارت اور عالمی مقابلہ اس شعبے میں ترقی کی رفتار کو متاثر کر سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کو 1980 کی دہائی میں آٹو موبائل سیکٹر میں بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن صحیح پالیسیوں اور گھریلو مارکیٹ کی مدد سے آج ہندوستان دنیا کا چوتھا سب سے بڑا گاڑیاں بنانے والا اور برآمد کنندہ بن گیا ہے۔
اسی طرح ہندوستان سیمی کنڈکٹر سیکٹر میں بھی تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ ہندوستان فی الحال سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ میں جدید ترین ٹیکنالوجیز سے مقابلہ کرنے کے بجائے پہلے سے ثابت شدہ ٹیکنالوجیز کو اپنانے پر توجہ دے رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…