عالمی سطح پر ہونی والی اہم تبدیلیوں اور اسٹریٹجک اقدامات کے درمیان ہندوستان کا دفاعی شعبہ خاطر خواہ ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نواما کی ایک رپورٹ میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ مالی سال 25 میں ہندوستان کی دفاعی برآمدات 203 ارب روپے تک پہنچ جائیں گی۔ جب کہ شعبۂ دفاع مالی سال 29 تک اسے 500 ارب روپے تک پہنچانے کا ہدف رکھتا ہے۔ ہندوستان کا شعبۂ دفاع اس وقت نہایت اہم موڑ پر کھڑا ہے، کیوں کہ اسے قومی اور بین الاقوامی دونوں منڈیوں میں پیدا ہونے والے مواقع کے ساتھ عالمی سطح پر ہندوستان کے دفاع کے شعبے میں اہم مقام دلانا ہے۔
یورپی دفاعی مواقع
اس درمیان دفاعی شعبہ یورپی منڈیوں تک رسائی حاصل کرے گا۔ یورپی دفاعی آرڈرز مالی سال 26 سے شروع ہونے کی توقع ہے۔ یورپ کی محدود پیداواری صلاحیت اور افرادی قوت کی کمی نے ہندوستانی صنعت کاروں کے لیے اہم مواقع پیدا کیے ہیں۔ جہاں یورپی ممالک اسٹریٹجک شراکت داری کے خواہاں ہیں، وہیں ہندوستانی دفاعی کمپنیاں بھی قدم بڑھانے اور بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے تیار کھڑی ہیں۔ مذکورہ رپورٹ میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی ہے کہ مقامی مینوفیکچرنگ اور ہنر مند افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے یورپ کی دفاعی توسیع کو رکاوٹوں کا سامنا ہے، اس خلا کو پُر کرنے کے لیے انھیں ہندوستانی مینوفیکچررز کی ضرورت ہے۔
گھریلو دفاعی پیش رفت
مقامی طور پر ہندوستانی حکومت مارچ 2025 تک بڑے پیمانے پر 1.5 ٹریلین روپے کے دفاعی آرڈر دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ اقدام مالی سال 25 میں آرڈر کی سست رفتار کو دور کرنے کے ساتھ ساتھ دفاعی اسٹاک کو نمایاں طور پر فروغ دے گا اور اس شعبے کی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا۔ حکومت کا یہ قدم ہندوستان کی دفاعی صلاحیتوں کو تقویت دینے اور سیکیورٹی کے بڑھتے ہوئے مسائل سے نمٹنے کی ضرورت کے مطابق ہے۔
دریں اثنا عالمی سطح پر یوکرین کے لیے امریکی فوجی امداد میں کمی نے نیٹو کے امریکی دفاعی فنڈنگ پر انحصار کو بے نقاب کر دیا ہے۔ امریکہ نیٹو کے کل دفاعی اخراجات کا تقریباً 70 فیصد حصہ دیتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے اب اس فنڈنگ میں کمی نے یورپی ممالک کے لیے نئی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ یہ تبدیلی ہندوستان کے لیے یورپ کی بڑھتی ہوئی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک منفرد موقع فراہم کرتی ہے، اور عالمی سطح پر ہندوستان کی دفاعی برآمدات میں اضافے کی راہ ہموار کرتی ہے۔
دفاعی برآمدات کا پچھلا ریکارڈ
مالی سال 2023-24 میں ہندوستان کی دفاعی برآمدات ریکارڈ 21,083 کروڑ روپے تک پہنچ گئی تھی، جس میں پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 32.5 فیصد کا اضافہ ہوا تھا۔ پچھلی دہائی کے دوران دفاعی برآمدات میں مجموعی طور پر 31 گنا اضافہ ہوا ہے، جس میں نجی شعبے (60%) اور دفاعی پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگز (DPSUs) (40%) دونوں کی نمایاں شراکت ہے۔
یہ ترقی عالمی دفاعی منڈیوں میں ہندوستان کو ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ مزید برآں بڑھتی ہوئی عالمی مانگ اور قومی ضرورت کے ساتھ ہندوستان کا دفاعی شعبہ آنے والے سالوں میں مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن رہ سکتا ہے۔ یہ شعبہ ملکی اور بین الاقوامی دونوں سطحوں پر پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور عالمی سطح پر طویل مدتی کامیابی کے لیے خود کو پوزیشن میں لا رہا ہے۔
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…