کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی ہندوستان کی خوردہ افراط زر نے فروری میں 3.61 فیصد کی شرح کے ساتھ گذشتہ 7 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی۔ بدھ کو جاری کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ جنوری کے اعداد و شمار سے 0.65 فیصد کم ہے۔ خوردہ افراط زر میں میں آئی اس کمی کی بنیادی وجہ اشیائے خوردونوش کی کم قیمتیں ہیں۔ خوراک کی قیمتیں مئی 2023 کے بعد سے اب تک کی کم ترین سطح پر آگئی ہیں اور جنوری کے مقابلے میں 222 بیسس پوائنٹس کم ہیں۔
سبزی، انڈے، گوشت اور مچھلی، دال اور دودھ اور اس کی مصنوعات کی گرتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی میں کمی کی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق فروری میں قیمتوں میں کمی کا باعث بننے والی اہم اشیاء ادرک (-35.81%)، زیرہ (-28.77%)، ٹماٹر (-28.51%)، گوبھی (-21.19%)، اور لہسن (-20.32%) ہیں۔
کم افراط زر کے اثرات
خوردہ افراط زر آر بی آئی کے 4 فیصد کے ہدف سے نیچے گر گیا ہے۔ اس سے مرکزی بینک کو شرحوں میں کمی اور ترقی اور ملازمتوں کو فروغ دینے کے لیے مزید گنجائش ملتی ہے۔ آر بی آئی کے گورنر سنجے ملہوترا نے گذشتہ ماہ کی مانیٹری پالیسی کے جائزے میں 25 بیسس پوائنٹ ریپو ریٹ کو 6.5% سے 6.25% کرنے کا اعلان کیا۔ اس کا مقصد عالمی غیر یقینی اقتصادی صورتحال کے درمیان اقتصادی ترقی کو تیز کرنا ہے۔
ملہوترا نے کہا کہ افراط زر میں کمی آئی ہے اور اسے دھیرے دھیرے آر بی آئی کے 4 فیصد ہدف کے مطابق ہونا چاہیے۔ مانیٹری پالیسی کا مقصد معاشی نمو کے ساتھ افراط زر پر قابو پانا ہے۔ ٹرمپ کی ٹیرف جنگ اور روس یوکرین تنازع جیسے عالمی مسائل نے معیشت کو سست کر دیا ہے۔ MPC نے متفقہ طور پر مانیٹری پالیسی پر غیر جانبدارانہ موقف برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملہوترا نے بتایا کہ یہ نقطہ نظر میکرو اکنامک ماحول سے نپٹنے کے لیے ضروری لچک فراہم کرتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…