سیاست

Sanjay Raut slammed BJP: کیا جے ڈی یو کے ممبران اسمبلی بی جے پی میں ہوں گے شامل؟ سنجے راوت کے بیان سے قیاس آرائیاں تیز

شیوسینا (یو بی ٹی) کے سینئر لیڈر سنجے راوت نے ہفتہ کوایک بڑا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہار کے وزیر اعلی نتیش کمارکی قیادت والی جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) مرکز میں حکمراں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) سے الگ ہوسکتی ہے۔ انہوں نے یہ بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا  ہے کہ بی جے پی جے ڈی یو کے 10 ممبران پارلیمنٹ کو اپنے پالے میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

سنجے راوت نے الزام لگایا کہ بی جے پی بہار میں اپنی اتحادی جے ڈی یو کو دھوکہ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا، “بی جے پی نے بہار میں جے ڈی یو کے 10 ممبران اسمبلی کو توڑنے کی سازش شروع کر دی ہے، جس کی وجہ سے نتیش کمار بے چینی محسوس کر رہے ہیں۔ مجھے شک ہے کہ وہ این ڈی اے میں رہیں گے یا نہیں۔”

بہار انتخابات کے بارے میں کیا کہا؟

شیو سینا (یو بی ٹی) راجیہ سبھا ایم پی نے مزید کہا کہ جے ڈی یو کے 2025 میں ہونے والے بہار اسمبلی انتخابات میں این ڈی اے کے ایک اتحادی کے طور پر لڑنے کا امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جے ڈی یو کے ممبران اسمبلی کو توڑنے کی بی جے پی کی کوشش سے نتیش کمار کی پارٹی کی صورتحال غیر مستحکم ہو گئی ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ لوک سبھا میں اس وقت جے ڈی یو کے 12 ایم پی ہیں، جو مرکز میں این ڈی اے حکومت کی موجودگی  کے لیے اہم ہے، کیونکہ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں یعنی لوک سبھا میں بی جے پی کے پاس اپنے طور پر اکثریت نہیں ہے۔

مودی 3.0 کی مدت کار کو لے کر بڑا دعویٰ

قابل ذکر بات  یہ ہے کہ  سنجے راوت نے جمعرات کو ایک بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ انہیں شک ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت 2026 تک اقتدار میں رہ سکے گی۔  سنجے راوت نے کہا کہ اگر مودی حکومت اپنی میعاد پوری کرنے میں ناکام رہتی ہے ، تو اس سے نہ  صرف مہاراشٹر میں بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی سیاسی تبدیلیاں رونما ہوں گی۔

بھارت ایکسپریس

Abu Danish Rehman

Recent Posts

India v Afghanistan Second T20: دوسرا ٹی20، سنجو-ابھیشیک کی 88 رن کی طوفانی شراکت، بھارت نے افغانستان کو 7 وکٹ سے دی شکست

سیریز کا آخری مقابلہ 17 ستمبر کو اسی میدان پر کھیلا جائے گا۔ ٹاس ہار…

8 hours ago

Freedom from Enslavement to Technology: ٹیکنالوجی کی غلامی سے آزادی، کیا ہے بھارت کا ’ڈی- ویپنائزنگ ٹیکنالوجی‘ منصوبہ اور ڈی پی آئی ماڈل؟

یو پی آئی، ڈیٹا پروٹیکشن قانون اور سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے بھارت ڈیجیٹل خودمختاری…

9 hours ago