واشنگٹن ڈی سی – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ19 ستمبر 2025 کو ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جس کے تحت H-1B ویزا کے لیے درخواست فیس کو بڑھا کر 1,00,000 امریکی ڈالر (تقریباً 90 لاکھ بھارتی روپے) کر دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ امریکہ میں کام کرنے والے ہزاروں غیر ملکی، خصوصاً بھارتی پیشہ ور افراد کے لیے باعثِ تشویش بن گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی وضاحت: صرف نئے ویزا پر لاگو ہوگا
ہفتہ، 20 ستمبر 2025 کو وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ اہلکار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 1 لاکھ ڈالر کی فیس صرف نئے H-1B ویزا درخواست دہندگان پر لاگو ہوگی۔پہلے سے موجود ویزا ہولڈرز یا ان کے ویزا کی تجدید کرنے والوں پر یہ اصول لاگو نہیں ہوگا۔
H-1B ویزا کیا ہے؟
H-1B ایک غیر امیگرنٹ ورک ویزا ہے جو امریکی کمپنیاں غیر ملکی ماہرین کو بھرتی کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں، خاص طور پر سائنسدانوں، سافٹ ویئر انجینئرز، پروگرامرز، اور ٹیکنیکل اسپیشلسٹس کے لیے۔ابتدائی طور پر یہ ویزا 3 سال کے لیے جاری کیا جاتا ہے، جسے بعد میں 6 سال تک توسیع دی جا سکتی ہے۔
نئے ضوابط کب سے نافذ ہوں گے؟
وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، نئے اصول 21 ستمبر 2025 سے نافذ العمل ہوں گے۔ہر نئے H-1B درخواست گزار کو درخواست جمع کرواتے وقت 1 لاکھ ڈالر کی فیس دینا لازمی ہوگی۔بغیر فیس کے جمع کرائے گئے درخواست فارم خارج کر دیے جائیں گے، اور ایسے امیدواروں کو امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ٹیک کمپنیوں کی سخت ردعمل
صدر ٹرمپ کے اس اقدام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں مایوسی کا شکار ہو گئی ہیں۔مائیکروسافٹ نے اپنے غیر ملکی ملازمین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فی الحال امریکہ میں ہی مقیم رہیں۔ایمیزون، میٹا، اور گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ نے اپنے بیرون ملک موجود ملازمین کو واپس بلانے کی ہدایت جاری کی۔جے پی مورگن جیسی مالیاتی اداروں نے بھی اسی نوعیت کی ہدایات جاری کیں۔
صدر ٹرمپ کا مؤقف: “قومی سلامتی کو خطرہ”
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ H-1B ویزا کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے، اور یہ بعض آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کے ذریعے قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔امریکی قانون نافذ کرنے والے ادارے اب اس حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
نئے قوانین کے تحت تقاضے
یہ فیس صرف نئے درخواست دہندگان پر لاگو ہوگی، اور یہ ایک بار ادا کرنی ہو گی۔پرانے ویزا ہولڈرز یا ان کے ری نیوئل پر یہ فیس لاگو نہیں ہو گی۔نیا ضابطہ آئندہ H-1B لاٹری سائیکل سے مؤثر ہوگا۔2025 کی لاٹری میں کامیاب امیدواروں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔جن کے پاس پہلے سے H-1B ویزا ہے، انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ تبدیلی امریکہ میں بھارتی IT پروفیشنلز اور دیگر غیر ملکی ہنرمندوں کے لیے ایک چیلنج بن سکتی ہے، اور اگلے کچھ دنوں میں اس پر عالمی سطح پر مزید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
وورا کا الزام ہے کہ 2011 میں ان کی معلومات کے بغیر مبینہ طور پر…
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…