نئی دہلی – پی ایم نریندر مودی آج شام 5 بجے قوم سے خطاب کریں گے، جس میں وہ معاشی اور خارجہ پالیسی سے متعلق متعدد اہم امور پر روشنی ڈال سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق، ممکنہ موضوعات میں شامل ہیں:امریکہ کی جانب سے درآمدات پر 50 فیصد ٹیرف (ٹیکس) کا نفاذ،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ H-1B ویزا قوانین میں کی گئی سختیاں،اور بھارت میں طویل عرصے سے زیرِ غور جی ایس ٹی (GST) اصلاحات۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے اب تک اس خطاب کے ایجنڈے پر کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
“آتم نربھر بھارت” پر زور
پی ایم مودی مسلسل “آتم نربھر بھارت” مہم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ وہ متعدد مواقع پر شہریوں سے اپیل کر چکے ہیں کہ وہ دیسی (مقامی) مصنوعات اور خدمات کو ترجیح دیں۔ان کا ماننا ہے کہ “دیسی اپنانا” صرف معیشت کی مضبوطی کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی خود انحصاری اور ثقافتی فخر کی علامت بھی ہے۔ مودی نے صنعتکاروں، کاروباریوں اور عام لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ مقامی مصنوعات کا استعمال بڑھائیں تاکہ روزگار میں اضافہ ہو اور بھارتی معیشت مزید مستحکم ہو۔
توقعات کیا ہیں؟
ماہرین کے مطابق، امریکہ کے نئی تجارتی پالیسیوں کے اثرات پر مودی حکومت کا مؤقف واضح کیا جا سکتا ہے۔H-1B ویزا کے نئے سخت ضوابط پر بھارتی شہریوں کی تشویش کے پیشِ نظر، حکومت کا ردعمل متوقع ہے۔جی ایس ٹی کے ڈھانچے میں ممکنہ سادگی یا نئی شرحوں پر بھی اعلان ہو سکتا ہے۔قوم سے خطاب کو معاشی سمت میں ایک اہم موقع مانا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عالمی حالات اور تجارتی تنازعات بھارت کے لیے نئی چنوتیاں پیدا کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
ایرانی نیوز چینل پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی ڈرون کو ایران کے…
شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد سے یہ طیارہ کرمان شاہ کے لیے روانہ ہوا…
یمن میں حوثی باغیوں نے سعودی حمایت یافتہ فورسز کے خلاف لڑائی کی ایک ویڈیو…
آئی ایم ڈی کے مطابق منگل (15 ستمبر) کو دہلی کے کچھ علاقوں میں بونداباندی…
وزیر اعظم نریندر مودی کے 25 سالہ عوامی خدمت کے سفر کے موقع پر 17…
یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے…