بین الاقوامی

Francis Halzen Awarded Nobel Prize in Physics: فرانسس ہالزن کو فزکس کا نوبیل انعام، کائنات کے پراسرار ذرات کی دریافت پر اعزاز

نئی دہلی: 2026 کے فزکس نوبیل انعام کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ سویڈن کی رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز نے منگل کے روز سائنس دان فرانسس ہالزن کے نام کا اعلان کیا۔ ان کی تحقیق کائنات کے رازوں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کی تعمیر میں اہم کردار

یہ انعام ایسی دریافت یا تحقیق کے لیے دیا جاتا ہے جس نے فزکس کو سمجھنے یا سائنس اور ٹیکنالوجی کو آگے بڑھانے میں نمایاں مدد کی ہو۔ فرانسس ہالزن کو آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرنے اور خلا سے آنے والے انتہائی زیادہ توانائی والے نیوٹرینو کی دریافت کے لیے یہ اعزاز دیا گیا ہے۔

کمیٹی نے بتایا کہ فرانسس ہالزن نے ایک بالکل نئے طرز کی فلکیاتی تحقیق کی بنیاد رکھی۔ ان کا خیال تھا کہ جنوبی قطب پر موجود گلیشیئر کی برف کو استعمال کرکے نیوٹرینو نامی پراسرار ذرات کو پکڑا جا سکتا ہے۔ اسی خیال کا نتیجہ ’آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری‘ کی شکل میں سامنے آیا، جو دور خلا سے آنے والے نیوٹرینو کا سراغ لگا سکتی ہے۔ ہالزن کی پیدائش ڈنمارک میں ہوئی تھی، تاہم انہوں نے اپنے سائنسی کیریئر کا بڑا حصہ امریکہ میں گزارا۔

کمیٹی کے مطابق نیوٹرینو انتہائی چھوٹے ذرات ہیں، جو سورج، ستاروں اور خلا میں ہونے والے انتہائی طاقتور واقعات کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ ہر سیکنڈ اربوں نیوٹرینو ہمارے جسم اور زمین کے آرپار گزر جاتے ہیں، لیکن ہمیں ان کا احساس تک نہیں ہوتا۔ ان کا سراغ لگانا آسان نہیں ہے، کیونکہ یہ زیادہ تر مادے سے ٹکرائے بغیر گزر جاتے ہیں۔ اسی مسئلے کا حل تلاش کرتے ہوئے سائنس دان فرانسس ہالزن نے 1988 میں جنوبی قطب کی برف کو استعمال کرنے کا خیال پیش کیا تھا۔

ایک مکعب کلومیٹر برف میں لگائے گئے ہزاروں سینسر

تقریباً ایک مکعب کلومیٹر برف میں روشنی کو پکڑنے والے ہزاروں سینسر نصب کیے گئے۔ اگر کوئی نیوٹرینو برف میں موجود کسی ایٹم کے مرکزے سے ٹکراتا ہے تو اس ٹکراؤ کے نتیجے میں انتہائی ہلکی روشنی پیدا ہوتی ہے۔ برف میں نصب سینسرز نے اسی روشنی کو پکڑنے کا کام کیا۔ اسی خیال سے آگے چل کر آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری وجود میں آئی۔ اس کی تعمیر 2011 میں مکمل ہوئی۔

دسمبر میں اسٹاک ہوم میں نوبیل انعامات دیے جائیں گے

نوبیل انعام کے فاتحین کو دسمبر میں سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں اعزاز سے نوازا جائے گا۔ انہیں میڈل، ڈپلومہ اور انعامی رقم دی جائے گی۔ 2026 میں نوبیل انعام کی رقم تقریباً 11.5 کروڑ روپے ہے۔ ایک سے زیادہ سائنس دانوں کو انعام دیے جانے کی صورت میں رقم ان کے درمیان تقسیم کی جائے گی۔

اس سے قبل پیر کو میڈیسن کا نوبیل انعام جرمنی کے پیٹر ہیگیمین اور جارج ناگل اور امریکہ کے کارل ڈائیسیروتھ کو دیا گیا ہے۔ ان سائنس دانوں نے آپٹو جینیٹکس نامی ایسی تکنیک تیار کرنے میں مدد کی، جس کے ذریعے روشنی کی مدد سے دماغ کے مختلف اعصابی خلیوں کو کنٹرول کرکے ان کے کام کو سمجھا جا سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔

Md Hammad

Recent Posts

Iran Restarts Nuclear and Missile Program: ایران نے جوہری اور میزائل پروگرام پھر کیا شروع ، سابق امریکی جنرل کی وارننگ

سیٹلائٹ تصاویر میں ایران کی متعدد تنصیبات پر سرگرمیاں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ان میں…

30 minutes ago

MLC Election Result: اتر پردیش، بہار سمیت 4 ریاستوں میں آج انتخابی نتائج، کس کے سر سجے گا جیت کا تاج؟

اتر پردیش میں گریجویٹ کی 5 اور اساتذہ کے انتخابی حلقوں کی 6 نشستوں سمیت…

1 hour ago

Major Decision by Supreme Court Collegium: سپریم کورٹ کالجیم کا بڑا فیصلہ، 4 ہائی کورٹس کو ملیں گے نئے چیف جسٹس، 9 نئے ججوں کی بھی ہوگی تقرری

ملک کی اہم اور مصروف ترین عدالتی اداروں میں شامل بامبے ہائی کورٹ میں ججوں…

3 hours ago

Microsoft Layoff Alert: مصنوعی ذہانت کے دور میں 60,000 ملازمین کو ملازمت چھوڑنے کی پیشکش، جانئے کیا ہے مائیکروسافٹ کا منصوبہ؟

مائیکروسافٹ کا یہ قدم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت…

4 hours ago