پی ایم نریندر مودی نے ہفتہ کے روز جاپان کے صوبہ میاگی کے شہر سینڈائی میں جدید ترین E10 بلیٹ ٹرین میں سفر کیا۔ اس موقع پر جاپان کے وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا بھی ان کے ہمراہ تھے۔ دونوں رہنماؤں نے نہ صرف بلیٹ ٹرین کی ٹیکنالوجی کا مشاہدہ کیا بلکہ ٹرین کے اندر سفر کر کے اس کے فیچرز کا تجربہ بھی کیا۔
جاپانی وزیر اعظم نے اس موقع پر بھارت کے ان لوکو پائلٹس سے بھی ملاقات کی جو جاپان کے ایسٹرن ریلوے انسٹی ٹیوٹ سے تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ پائلٹس بھارت میں چلنے والی بلیٹ ٹرینوں کو آپریٹ کریں گے۔
بھارت-جاپان شراکت: سرمایہ کاری اور بلیٹ ٹرین تعاون
وزیر اعظم مودی نے جمعہ کو جاپان میں منعقدہ 15ویں بھارت-جاپان سربراہی اجلاس میں شرکت کی، جہاں 150 باہمی معاہدے طے پائے۔ جاپانی وزیر اعظم اشیبا نے اعلان کیا کہ آئندہ 10 برسوں میں جاپان بھارت میں 6 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔
مودی نے جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں 16 جاپانی صوبوں کے گورنرز سے بھی ملاقات کی اور ریاست-صوبہ شراکت داری کو فروغ دینے پر زور دیا۔ ملاقات میں ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، مہارت سازی، اسٹارٹ اپس اور ایس ایم ایز کے میدان میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بھارت کی پہلی بلیٹ ٹرین: جاپان کا کلیدی کردار
بھارت کی پہلی ہائی اسپیڈ ریل کا منصوبہ ممبئی اور احمد آباد کے درمیان جاری ہے۔ 508 کلومیٹر طویل اس کاریڈور میں ٹرین کی رفتار 350 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی، اور یہ سفر تقریباً 3 گھنٹوں میں طے ہوگا۔
پراجیکٹ کی کل لاگت 1.08 لاکھ کروڑ روپے ہے، اور جاپان بھارت کو ٹیکنیکل اور مالی معاونت فراہم کر رہا ہے۔
یہ منصوبہ 2017 میں اس وقت کے جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے اور وزیر اعظم نریندر مودی نے شروع کیا تھا۔ رپورٹوں کے مطابق جاپان بھارت کو E3 اور E5 ماڈل کی دو بلیٹ ٹرینیں تحفے میں دے گا۔
ای 10 بلیٹ ٹرین: 2030 تک بھارت کی پٹری پر
E10 ماڈل ٹرین 400 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور 2030 تک مکمل طور پر تیار ہو جائے گی۔ بھارت اور جاپان اس جدید ترین ٹرین کو باہمی تعاون کے ساتھ ایک ساتھ متعارف کرانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
اگلا پڑاؤ: چین اور ایس سی او اجلاس
جاپان کے دورے کے بعد وزیر اعظم مودی دو روزہ دورے پر چین روانہ ہوں گے، جہاں وہ SCO (شنگھائی تعاون تنظیم) کے سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس موقع پر ان کی ملاقات چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بھی متوقع ہے۔
پی ایم مودی مودی کا جاپان کا یہ دورہ ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، سرمایہ کاری اور سفارتی تعلقات کے میدان میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ بلیٹ ٹرین منصوبہ نہ صرف بھارت کے ٹرانسپورٹ سیکٹر کو نئی بلندیوں پر لے جائے گا بلکہ ایشیا میں بھارت-جاپان شراکت کو بھی مستحکم کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
زیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری اطلاع کے مطابق 17 سے 19 ستمبر…
جے پی انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، نوئیڈا میں 28 سے 30 جنوری 2027 تک…
15 ستمبر کی شام شمالی بحیرہ عرب میں بھارتی بحریہ کے ایک فرنٹ لائن جنگی…
اپنے صدارتی خطاب میں جامعہ ہمدرد کے وائس چانسلر پروفیسر (ڈاکٹر) ایم زیڈ عابدین نے…
ذرائع کے مطابق، اب جنرل سکریٹری اور انچارج کے ساتھ مقرر کیے گئے سکریٹریوں کو…
سیا نے کہا کہ انہوں نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیان میں پورا واقعہ بتایا…