سیاست

India-China Relation: شی جن پنگ اور پی ایم مودی کی ملاقات کتنی اہم ؟  شی جن پنگ کا وہ  خفیہ خط، ٹرمپ کے ٹیرف سے پہلے ہی بھارت-چین تعلقات کو بہتر بنانے کی رکھ دی بنیاد

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی نے نہ صرف عالمی سطح پر تجارت کو متاثر کیا ،بلکہ ایشیا کے دو بڑے اور مختلف نظریات رکھنے والے ممالک — بھارت اور چین — کے تعلقات کو بھی بہتر بنانے میں غیر ارادی طورپر مدد کی ہے۔ اس دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ گلوان وادی میں جھڑپوں کے بعد جو تعلقات کشیدہ ہوئے تھے، انہیں صدر شی جن پنگ نے بہتر بنانے کی پہل کی تھی۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بھارتی صدردروپدی مرمو کو ایک خفیہ خط بھیجا تھا، جس میں دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے کی خواہش ظاہر کی گئی تھی۔

جون 2025: بیک چینل سفارتکاری کی شروعات

جون 2025 میں بھارت اورچین کے درمیان بیک چینل کمیونیکیشن کا آغاز ہوا۔ اس کے تحت دونوں ممالک نے طویل عرصے سے رکے ہوئے مسائل، خاص طو پرگلوان وادی کے تنازع پر بات چیت کی۔ اگست میں چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے بھارت دورے کے دوران دونوں ممالک نے سرحدی تنازعات کے حل اور تجارتی تعاون میں اضافے پر اتفاق کیا۔ چین نے بھارت کی تشویشات — جیسے کھاد (فَرٹیلائزر)، نایاب دھاتوں اور ٹنلنگ مشینوں کی درآمد — پر مثبت اشارے دیے۔

مودی-شی ملاقات پر دنیا کی نظریں

31 اگست کو شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کی میٹنگ کے دوران پی ایم نریندر مودی اور صدر شی جن پنگ کی ملاقات طے ہے۔ یہ ملاقات مودی کی سات سال بعد چین آمد پر ہو رہی ہے۔ اس سے پہلے وہ 2019 میں چین گئے تھے۔

امکان ہے کہ دونوں لیڈران درج ذیل امور پر تبادلہ خیال کریں گے:

سرحدی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے عملی اقدامات

تجارتی شراکت داری اور سرمایہ کاری میں اضافہ

علاقائی امن اور استحکام کو یقینی بنانا

ٹرمپ کی ٹیرف پالیسی: امریکہ-بھارت تعلقات میں تلخی

امریکہ نے بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کر دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤآ گیا ہے۔ یہاں تک کہ کئی امریکی تجزیہ کار اور ریپبلکن رہنما بھی اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں۔ اس ماحول میں بھارت اور چین کا قریب آنا دونوں کی معیشت کے لیے مفید سمجھا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے چین پر بھی لگائے بھاری ٹیرف

ٹرمپ انتظامیہ نے چین پر بھی سخت ٹیرف لگائے ہیں، جس سے چین کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ ایسے میں بھارت اور چین ٹیرف رکاوٹوں کو مل کر کم کر سکتے ہیں۔ اگر دونوں ممالک ایک ساتھ آتے ہیں تو:ایشیا میں استحکام بڑھے گا

سرمایہ کاری اور ترقی کو فروغ ملے گا،امریکہ پر انحصار کم ہوگا،بھارت اور چین اپنے مشترکہ مفادات پر کام کر سکیں گے

نئی اقتصادی صف بندی کی شروعات؟

ٹرمپ کے یکطرفہ فیصلوں کے بعد بھارت اور چین کے درمیان سفارتی اور معاشی قربت بڑھ رہی ہے۔ شی جن پنگ کے خفیہ سفارتی اقدام اور بیک چینل مذاکرات سے ایک نیا علاقائی اتحاد ابھرتا دکھائی دے رہا ہے، جو ممکنہ طور پر عالمی سیاست اور معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو

Abu Danish Rehman

Recent Posts

President’s Police Colour: وزیرداخلہ امت شاہ نے اتراکھنڈ پولیس کو باوقار ’صدرجمہوریہ پولیس کلر‘ اعزاز سے نوازا

امت شاہ نے کہا ہے کہ میں دیوبھومی کے عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں…

4 hours ago

Sharad Pawar-Praful Patel Meeting: شرد پوار-پرفل پٹیل کی ملاقات سے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل، کیا دونوں این سی پی پھر آئیں گی ایک ساتھ؟

اجیت پوارکے انتقال سے پہلے اجیت پوارگروپ اوراین سی پی-شرد چندرپوارکے لیڈران کے درمیان انضمام…

4 hours ago