مرکزی حکومت جلد ہی پارلیمنٹ میں آئین (131 ویں ترمیم) بل 2025 پیش کرے گی۔ اس تجویز کا بنیادی مقصد چندی گڑھ کو آئین کے آرٹیکل 240 کے تحت مرکزی زیر انتظام علاقوں کے زمرے میں شامل کرنا ہے، جہاں صدر براہ راست ایسے قوانین بناتے ہیں ،جن کا اثر قانون جیسا ہی ہوتا ہے۔ ترمیم منظور ہونے کے بعد چندی گڑھ میں نئے انتظامی ڈھانچے کے لیے راہ ہموار ہو جائے گی۔ یہ بل یکم دسمبر سے شروع ہونے والے آئندہ سرمائی اجلاس میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ پارلیمانی دستاویزات میں تفصیلات کے مطابق، مرکز چندی گڑھ کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا درجہ دینے کا ارادہ رکھتا ہے ،جہاں قانون ساز اسمبلی نہیں ہے اور نہ ہی معطل قانون ساز اسمبلی ہے۔ ان میں انڈمان اور نکوبار جزائر، لکشدیپ جزائر، دادرا اور نگر حویلی، دمن اور دیو، اور خاص حالات میں، پڈوچیری شامل ہیں۔ آرٹیکل 240 کے تحت بنائے گئے صدارتی ضابطوں کا اثر پارلیمنٹ کے قوانین جیسا ہی ہے، اس لیے اس تبدیلی سے چندی گڑھ کا انتظامی کنٹرول تقریباً مکمل طور پر مرکز کے ہاتھ میں چلا جائے گا۔
پنجاب میں شدید ردعمل
اس تجویز نے پنجاب کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ریاست کے وزیر اعلی بھگونت مان نے اسے پنجاب کے ساتھ ایک سنگین ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام چندی گڑھ کو پنجاب سے الگ کرنے کی سازش معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ پنجاب اصل ریاست ہے اور تاریخی طور پر چندی گڑھ پر اس کا حق ہے۔ دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بھی مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرتی ہے اور پنجاب کی شناخت پر سیدھا حملہ ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ چندی گڑھ پہلے بھی پنجاب کا تھا اور آج بھی ہے اور پنجاب اس بل کو منظور نہیں ہونے دے گا۔
بل کی مخالفت کا اعلان
کانگریس نے بھی بل کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔ پنجاب کانگریس کے صدر امریندر سنگھ راجہ وارنگ نے کہا کہ یہ اقدام نہ صرف مکمل طورپرغیرمنصفانہ ہے بلکہ اس کے دور رس منفی نتائج ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی قائدین سے بھی اس مسئلہ پر واضح موقف اختیار کرنے کا مطالبہ کیا۔
اکالی دل کا الزام
ایس اے ڈی کے صدر سکھبیر سنگھ بادل نے مرکزی حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز 1970 کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتی ہے، جس کے تحت چندی گڑھ کو پنجاب کے حوالے کیا جانا تھا۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ راجیولانگووال معاہدے پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا ہے اور نئی ترمیم سے پنجاب کے مفادات کو مزید نقصان پہنچے گا۔ اکالی دل نے اس معاملے پر ہنگامی میٹنگ بلائی ہے اور اپنی احتجاجی حکمت عملی کو حتمی شکل دی ہے۔
قانونی اور آئینی طور پر قابل اعتراض اقدام
نارتھ امریکن پنجابی ایسوسی ایشن نے بھی مرکزی حکومت کی تجویز پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پنجاب کے آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے اور چندی گڑھ پر پنجاب کے تاریخی دعوے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ بیرون ملک مقیم پنجابی تنظیموں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فی الحال چندی گڑھ کو کون کنٹرول کرتا ہے؟
اس وقت چندی گڑھ کا انتظام پنجاب کے گورنر کے ہاتھ میں ہے، جو یکم جون 1984 سے شہر کے منتظم ہیں۔ 2016 میں مرکزی حکومت نے ایک الگ ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا منصوبہ بنایا، لیکن پنجاب کی تمام جماعتوں کی شدید مخالفت کے بعد اسے یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔ اس تاریخ کو دیکھتے ہوئے نئی ترمیم پنجاب میں اور بھی حساس مسئلہ بن گئی ہے۔
تمام پارٹیاں ایک پلیٹ فارم پر
اس معاملے نے پنجاب میں کشیدگی کا ماحول پیدا کر دیا ہے، عام آدمی پارٹی، کانگریس اور اکالی دل نے متفقہ طور پر مرکز کی تجویز کی مخالفت کی ہے۔ تمام جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ پارلیمنٹ سے لے کر سڑکوں تک ہر سطح پر بل کو چیلنج کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
اتر پردیش میں پیر کی دیر رات بڑا انتظامی ردوبدل کیا گیا۔ حکومت نے 34…
دہلی کے دیش بندھو گپتا روڈ تھانہ علاقے کے کشن گنج میں 7 سالہ بچی…
صدر جمہوریہ مختلف زمروں کے فاتحین کو دیں گی قومی فلم ایوارڈ، تقریب میں بالی…
فلم ’ہنومان انش‘ کی کامیابی کے بعد پروڈیوسر انوپریا ناگر ایودھیا پہنچیں، جہاں انہوں نے…
’ہندی میری جان 2026‘ کے دوسرے ایڈیشن میں 22 ستمبر کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر…
راؤز ایونیو کورٹ کے پرانے حکم کو منسوخ کرکے معاملہ دوبارہ مجسٹریٹ عدالت بھیجا گیا،…