قومی

Concerns Regarding FCRA Bill: ایف سی آر اے ترمیمی بل پر عیسائی برادری کے تحفظات، ایک ماہ میں دوسری بار وزیرداخلہ امت شاہ سے ہوگی ملاقات

نئی دہلی: بیرون ملک سے آنے والی مالی معاونت (Foreign Contribution) کے ضابطے کو مزید سخت بنانے کے لیے مرکزی حکومت پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں فارن کنٹریبیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (FCRA) ترمیمی بل 2026 پیش کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس مجوزہ قانون پر عیسائی برادری نے متعدد تحفظات ظاہر کیے ہیں، جن کے سلسلے میں کیتھولک بشپز کانفرنس آف انڈیا (CBCI) کا ایک وفد جمعرات کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ایک ماہ کے اندر دوسری بار ملاقات کرے گا۔ عیسائی برادری کی سب سے بڑی تنظیم کیتھولک بشپز کانفرنس آف انڈیا کے صدر کارڈینل پولا انتھونی کی قیادت میں وفد نے گزشتہ 10 جولائی کو بھی امت شاہ سے ملاقات کر کے مجوزہ ایف سی آر اے ترمیمی بل پر اپنی تشویش ظاہر کی تھی۔ اب دس رکنی وفد دوبارہ وزیر داخلہ سے ملاقات کر کے قانون کے مختلف نکات پر اپنے اعتراضات اور تجاویز پیش کرے گا۔

حکومت ترمیمی بل کیوں لا رہی ہے؟

حکومت کا کہنا ہے کہ مجوزہ ترمیم کا مقصد بیرونِ ملک سے آنے والے فنڈز کے استعمال میں شفافیت لانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ یا عطیات کا استعمال ملک کے مفادات کے خلاف نہ ہو۔ اس وقت ہندوستان میں کوئی بھی این جی او، سوسائٹی، ٹرسٹ یا ادارہ اگر بیرونی فنڈ حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے ایف سی آر اے رجسٹریشن کرانا ضروری ہوتا ہے، جس کی ہر پانچ سال بعد تجدید بھی لازم ہے۔

مجوزہ بل میں کیا تبدیلیاں ہیں؟

حکومت کی جانب سے پیش کیے جانے والے بل میں ایک نامزد اتھارٹی (Designated Authority) قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے تحت اگر کسی ادارے کا ایف سی آر اے رجسٹریشن منسوخ ہو جائے، اس کی تجدید نہ ہو، وہ رجسٹریشن واپس کر دے یا اس کی مدت ختم ہو جائے تو غیر ملکی فنڈ سے حاصل کی گئی تمام رقم اور اس سے بنائی گئی جائیدادیں اس نامزد اتھارٹی کے حوالے کر دی جائیں گی۔ مجوزہ قانون کے مطابق ضرورت پڑنے پر یہ اتھارٹی ان اثاثوں کو فروخت بھی کرسکے گی اور فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کنسولیڈیٹڈ فنڈ آف انڈیا میں جمع کرائی جائے گی۔

عیسائی برادری کے اہم تحفظات

کیتھولک بشپز کانفرنس آف انڈیا نے حکومت کو دیے گئے اپنے میمورنڈم میں کہا تھا کہ مجوزہ ایف سی آر اے ترمیمی بل غریبوں اور سماجی خدمت انجام دینے والی تنظیموں کے مفادات کے خلاف ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ نیا قانون صرف مستقبل کے معاملات پر نافذ ہونا چاہیے، ماضی کے معاملات پر نہیں۔ فیصلے کرنے والی نامزد اتھارٹی عدالتی افسر کے زیرِ نگرانی ہونی چاہیے تاکہ غیر جانبداری برقرار رہے۔ کسی ادارے کی جائیداد ضبط یا منتقل کرنے سے پہلے تمام قانونی اپیلوں کا عمل مکمل ہونا چاہیے۔ معمولی تکنیکی خلاف ورزیوں اور سنگین بے ضابطگیوں میں فرق کیا جائے اور چھوٹی غلطیوں پر سخت کارروائی نہ کی جائے۔ عیسائی برادری نے بل میں شامل لفظ ’پروسیلیٹائزیشن‘ (مذہب تبدیل کرنے کی ترغیب) پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اصطلاح کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے۔ تنظیم کے مطابق ان کی فلاحی اور انسانی خدمات کا مقصد صرف عوامی بہبود اور قوم کی خدمت ہے، انہیں مذہب کی تبدیلی سے جوڑ کر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔

سماجی خدمات متاثر ہونے کا خدشہ

سی بی سی آئی نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر قانون کو ماضی کے معاملات پر بھی لاگو کیا گیا تو جائز غیر ملکی امداد حاصل کرنے والی فلاحی تنظیمیں متاثر ہوں گی، جس کا براہِ راست نقصان سماج کے غریب اور محروم طبقات کو پہنچے گا۔ وفد نے مختلف ریاستوں میں مذہب تبدیلی مخالف قوانین کے تحت عیسائیوں کے خلاف درج مقدمات اور مبینہ حملوں کا معاملہ بھی وزیر داخلہ کے سامنے اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تنظیم نے آئین (شیڈولڈ کاسٹس) آرڈر 1950 کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت اگر درج فہرست ذات (SC) سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص عیسائی مذہب اختیار کرتا ہے تو اسے ایس سی کا درجہ حاصل نہیں رہتا۔ سی بی سی آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت مقدمے کی جلد سماعت اور فیصلہ یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات کیے جائیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Habiburrahman

Recent Posts

LPG Subsidy New Rules: ایل پی جی گیس بکنگ میں تبدیلی، یکم اکتوبر سے نئے اصول نافذ، سبسڈی کے لیے کرنا ہوگا یہ کام

یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…

4 hours ago

JDU Internal Rift: جے ڈی یو میں اننت سنگھ اور نیرج کمار آمنے سامنے، پٹنہ گریجویٹ نشست پر بڑھا تنازع

اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…

4 hours ago

Andaman Tourism Vision: انڈمان کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دینے کی تیاری، قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تیار ہوگا وژن ڈاکیومنٹ

لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…

4 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: پاکستان نے گرچہ اردو کو اپنی زبان بنایا، لیکن اس کی جائے پیدائش اور اس کا خمیر ہندوستانی ہے: کرن رجیجو

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…

5 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ملک کو اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کریں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…

5 hours ago