قومی

وندے ماترم نہیں ہوسکتا حب الوطنی کا معیار، جماعت اسلامی ہند کے سینئر عہدیداران نے قومی وقار کی توہین بل 2026 پر کیا نظر ثانی کا مطالبہ

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفترمیں منعقدہ پریس کانفرنس کوخطاب کرتے ہوئے تنظیم کے سینئررہنماؤں نے حکومت کی طرف سے قومی وقارکی توہین (ترمیمی) بل، 2026 کی منظوری، ملک میں جامع تعلیمی اصلاحات کی ضرورت اورمختلف ریاستوں میں سیلاب کی سنگین صورت حال پراپنی گہری تشویش کا اظہارکیا۔ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرملک معتصم خان نے وندے ماترم سے متعلق قومی وقارکی توہین (ترمیمی) بل، 2026 کی منظوری پرگہری تشویش ظاہرکی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہند ملک کے آئینی اداروں اورقومی وقارکے احترام پرمکمل یقین رکھتی ہے، تاہم یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ وندے ماترم کے وہ اشعاراسلام کے عقیدۂ توحید سے مطابقت نہیں رکھتے، جن میں وطن کو ایک معبود کی صورت میں پیش کیا گیا ہے اوراسے بعض دیویوں سے منسوب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعتراض نہ تونیا ہے اورنہ ہی فرقہ وارانہ ہے بلکہ ہندوستان کے جمہوری اور آئینی نظام میں اس حقیقت کوپہلے ہی تسلیم کیا جاچکا ہے۔

حب الوطنی کا پیمانہ کسی مخصوص گیت، نعرے یا علامتی عمل نہیں: جماعت اسلامی ہند

ملک معتصم خان نے کہا کہ یہ نہایت تشویشناک ہے کہ پارلیمنٹ نے ایسا قانون منظورکیا ہے، جوبراہ راست مذہبی اقلیتوں کے حقوق کومتاثرکرسکتا ہے اوران میں کشیدگی پیدا کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس بل میں وندے ماترم گانے کولازمی قرارنہیں دیا گیا، لیکن اس کے خلاف کسی بھی ایسے عمل کو جرم قراردیا گیا ہے، جسے’توہین‘ یا ’بے ادبی‘ سمجھا جائے۔ اس قانون میں استعمال کی گئیں مبہم اصطلاحات قانون کے غلط استعمال کا سنگین خطرہ پیدا کرتی ہیں۔ ملک معتصم خاں نے سپریم کورٹ کے تاریخی بجوئے ایمانوئیل (Bijoe Emmanuel) فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کیا تھا کہ اگرکوئی شخص اپنے مذہبی عقیدے کی بنیاد پرقومی ترانے یا نغمے میں شریک نہ ہو توآئین میں دیئے گئے حقوق کے تحت اسے یہ حق حاصل ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حب الوطنی کا پیمانہ کسی مخصوص گیت، نعرے یا علامتی عمل میں شرکت نہیں ہوسکتا۔ جماعت اسلامی ہند حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس قانون پر نظرثانی کی جائے اور اس میں واضح حفاظتی دفعات شامل کی جائیں تاکہ قومی علامات کے احترام کو برقرار رکھتے ہوئے آئین میں دی گئی ضمانت کی بنیاد پر حقوق اور شخصی آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

مرکزی وزیرتعلیم کا استعفیٰ عوام کی ناراضگی کی شدت کی عکاسی: انجینئرسلیم

تعلیم کے موضوع پر اظہارِخیال کرتے ہوئے جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسرسلیم انجینئر نے کہا کہ نیٹ تنازع کے بعد مرکزی وزیرِتعلیم کا استعفیٰ عوام کی ناراضگی کی شدت کی عکاسی کرتا ہے، لیکن صرف ایک فرد کی تبدیلی سے برسوں کی خرابیوں کا ازالہ ممکن نہیں۔ انہوں نے حالیہ نیتی آیوگ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 10 برسوں میں تقریباً 94 ہزارسرکاری اسکول بند ہوچکے ہیں، یعنی اوسطاً ہرروزتقریباً 25 اسکول بند ہوئے ہیں، جوتعلیمی عدم مساوات میں اضافے اورسرکاری نظام تعلیم کے مسلسل زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔

ہندوستان کے نظامِ تعلیم کی سمت اوراس کی ترجیحات کا ازسرنوجائزہ لینے کا مطالبہ

پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ سرکاری اسکولوں کا بند ہونا، یونیورسٹیوں اورتحقیقی اداروں کی گرانٹس میں کمی، تعلیم کی نجکاری، اقلیتی تعلیم اوراسکالرشپ کے بجٹ میں مسلسل کٹوتیاں، تعلیم اورروزگارکے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہندوستان کے نظامِ تعلیم کی سمت اوراس کی ترجیحات کا ازسرنوجائزہ لیا جائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعلیمی پالیسیوں پرمشاورتی عمل کے ذریعہ نظرثانی کی جائے، تعلیم پرسرکاری اخراجات کوبڑھا کرکم ازکم جی ڈی پی کے 6 فیصد تک پہنچایا جائے، اسکالرشپ اورتعلیمی اسکیمیں بحال کی جائیں، سرکاری اسکولوں اوریونیورسٹیوں کومضبوط بنایا جائے، تمام تعلیمی اداروں کے ساتھ منصفانہ اورغیرامتیازی سلوک کویقینی بنایا جائے، امتحانی اورداخلہ نظام میں اصلاحات کی جائیں، تعلیم کوروزگاراورٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا جائے، اداروں کی خودمختاری کا تحفظ کیا جائے، آئینی اقدار، سماجی ہم آہنگی اورہندوستان کی تکثیری وراثت کی بنیاد پر نظام تعلیم تیار کیا جائے۔

ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب کی صورتحال پر اظہارتشویش

سیلاب کی صورت حال پرگفتگوکرتے ہوئے پروفیسرسلیم انجینئر نے آسام سمیت ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً اڈیشہ، گجرات اورکیرالا میں سیلاب سے ہونے والی تباہی پرگہری تشویش ظاہرکی۔ انہوں نے کہا کہ ہرسال آنے والی ان آفات کا مقابلہ صرف امدادی سرگرمیوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ آفات سے بچاؤاورپیشگی تیاری پرمبنی حکمت عملی اختیارکی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ امدادی کارروائیاں اورانسانی مدد نہایت ضروری ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ سائنسی بنیادوں پردریاؤں کا انتظام، آبی ذخائراوردلدلی علاقوں کا تحفظ، نکاسیٔ آب کا بہترنظام، موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق بنیادی ڈھانچے کی تعمیراورخطرے سے دوچارآبادیوں کی منصوبہ بند بازآبادکاری جیسے دیرپا اقدامات کوبھی ترجیح دی جانی چاہئے۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جماعت اسلامی ہند کے رضاکاروں اوردیگرتنظیموں کی امدادی خدمات کوسراہا اورساتھ ہی حکومتوں، رفاہی اداروں، کارپوریٹ اداروں اورعوام سے اپیل کی کہ وہ متاثرہ افراد کی فراخ دلانہ مدد کریں۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

Guru Tegh Bahadur: دہلی میں امر بلیدان، موسیقی اور تھیٹر کے ذریعے گرو تیغ بہادر جی کی عظیم قربانی کو کیا گیا پیش

تقریباً 40 فنکاروں کی ٹیم نے اپنی پرفارمنس اور مکالموں کے ذریعے مغلیہ دور کے…

1 hour ago

Prime Minister Narendra Modi: وزیر اعظم مودی نے سیوا یاترا میں شامل نوجوانوں سے کی بات چیت ، کہا- یہ تجربات انمول ہیں

پی ایم مودی نے کہا کہ ہر جگہ الگ الگ روایات ہیں اور کھانے پینے…

3 hours ago

Utter Pradesh International Trade Showگریٹر نوئیڈا میں میگا ٹریڈ شو، دنیا بھر کے تاجروں کا اجتماع، امت شاہ آج کریں گے شاندار افتتاح

گریٹر نوئیڈا میں منعقد ہونے والا یہ بین الاقوامی ٹریڈ شو محض ایک نمائش نہیں…

4 hours ago

DU Financial Support Scheme: دہلی یونیورسٹی کا 100 فیصد فیس معافی کا اعلان، درخواست کے لیے یہ دستاویزات ضروری

دوسرا زمرہ، 50 فیصد فیس معافی: جن خاندانوں کی سالانہ آمدنی 4.1 لاکھ روپے سے…

4 hours ago

Uproar over CEC Gyanesh Kumar: سی ای سی گیانیش کمار پر ہنگامہ، پروگرام ملتوی، کانگریس کا احتجاج، مہوا موئترا نے تھانے میں درج کرائی شکایت

کانگریس آج ملک بھر میں الیکشن کمیشن کے دفاتر تک احتجاجی مارچ نکالے گی۔ وہیں…

5 hours ago