بہار کی سیاست میں جنتا دل یونائیٹڈ کے دو اہم رہنماؤں، مکا ما کے رکن اسمبلی اننت سنگھ اور پارٹی کے قانون ساز کونسلر و ترجمان نیرج کمار کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ تنازع کی بنیادی وجہ پٹنہ گریجویٹ حلقے سے ہونے والا قانون ساز کونسل کا انتخاب ہے، جہاں نیرج کمار دوبارہ امیدوار بننے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اننت سنگھ نے نہ صرف نیرج کمار کی مخالفت کا اعلان کیا ہے بلکہ آزاد امیدوار انوج سنگھ کی حمایت بھی کی ہے۔
اننت سنگھ نے نیرج کمار کو شکست دینے کا اعلان کیا
اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انہیں انتخاب میں شکست دینے کی کوشش کریں گے اور ان کی ضمانت ضبط کرانے کی بات بھی کہی۔ اننت سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کی مخالفت جے ڈی یو سے نہیں بلکہ نیرج کمار سے ذاتی طور پر ہے۔ دوسری جانب نیرج کمار نے بھی اننت سنگھ کے بیان پر سخت ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص خود ضمانت لکھنا نہیں جانتا، وہ ان کی ضمانت ضبط کرانے کی بات کر رہا ہے۔ نیرج کمار نے یہ بھی کہا کہ اگر اننت سنگھ کے پاس ان کے خلاف الزامات کے ثبوت ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کرنا چاہیے۔
اے کے-47 معاملے پر بھی الزامات اور جوابی حملہ
دونوں رہنماؤں کے درمیان موجودہ تنازع کے دوران 2019 کے ایک اے کے-47 معاملے کا بھی ذکر ہو رہا ہے۔ اننت سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ انہیں پھنسانے کے لیے ان کے گھر میں اے کے-47 رکھوائی گئی تھی اور اس سازش میں نیرج کمار کا بھی کردار تھا۔ انہوں نے اس معاملے کی جانچ اور ضرورت پڑنے پر نارکو ٹیسٹ کا مطالبہ کیا ہے۔ نیرج کمار نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اننت سنگھ کو چیلنج کیا کہ اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو وہ عدالت میں پیش کریں۔ نیرج کمار نے کہا کہ وہ اس طرح کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہیں ہوں گے۔
پارٹی قیادت کی صلح کی کوششیں
اختلافات کو ختم کرنے کے لیے جے ڈی یو کی ریاستی قیادت نے دونوں رہنماؤں کو آمنے سامنے بٹھا کر معاملہ سلجھانے کی کوشش کی، تاہم تنازع پوری طرح ختم نہیں ہوا۔ پارٹی کے اندر پٹنہ گریجویٹ نشست کو لے کر سرگرمیاں بھی تیز ہوئی ہیں۔ مرکزی وزیر اور جے ڈی یو کے سینئر رہنما لالن سنگھ نے اننت سنگھ اور نیرج کمار کے درمیان جاری بیان بازی کو پارٹی میں دھڑے بندی قرار دینے سے گریز کیا ہے۔ ادھر نیرج کمار پٹنہ گریجویٹ حلقے سے دوبارہ انتخاب لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ اننت سنگھ مسلسل ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اس تنازع نے پٹنہ گریجویٹ حلقے کے آنے والے قانون ساز کونسل انتخاب کو سیاسی طور پر مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ تاہم جے ڈی یو کے اندر اس اختلاف کا حتمی سیاسی اثر انتخابی نتائج کے بعد ہی واضح ہوگا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…
بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…
سپریم کورٹ میں راہل گاندھی کی عرضی پر 21 ستمبر کو سماعت، عدالت نے پہلے…