آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے احتجاجی مظاہرہ پر جگدمبیکا پال نے سوال اٹھایا ہے۔
Jagdambika Pal on Waqf Amendment Bill 2024 Protest: وقف ترمیمل بل 2024 کے احتجاج میں جنترمنتر پرآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ ہوا۔ اس احتجاج میں مسلم تنظیموں کے سربراہان اورمختلف اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین پارلیمنٹ اورلیڈران نے شرکت کی۔ کانگریس سمیت کئی اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے وقف بل سے متعلق بنائی گئی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی (جے پی سی) پر بھی سوال اٹھایا۔ اس پرجے پی سی چیئرمین جگدمبیکا پال نے کہا کہ ہم نے اس سے متعلق سبھی مسلم تنظیموں سے بات کی، 6 ماہ میں 118 میٹنگیں ہوئیں توآخراب احتجاج کیوں کیا جا رہا ہے؟
بی جے پی رکن پارلیمنٹ جگدمبیکا پال نے کہا کہ جو لوگ جنترمنتر پراحتجاج کرنے گئے ہیں۔ انہوں نے رپورٹ پڑھی بھی نہیں ہے۔ احتجاج کرنے والوں کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ وقف ہی نہیں دفعہ 370 اور تین طلاق کے وقت بھی ایسے ہی افواہیں پھیلائی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون پارلیمنٹ میں بنتا ہے، جنترمنتر پرنہیں۔
جگدمبیکا پال کی صدارت میں بنی جے پی سی
مرکزی وزیر برائے پارلیمانی اموراوراقلیتی امور کرن رجیجو نے 8 اگست کو لوک سبھا میں وقف بل 2024 پیش کیا تھا۔ اپوزیشن کی مخالفت کے بعد حکومت نے اس پرجگدمبیکا پال کی صدارت میں جے پی سی بنائی تھی۔ 31 رکنی جے پی سی کی پہلی میٹنگ 22 اگست کو ہوئی تھی۔ جے پی سی کی رپورٹ کی 16 اراکین نے حمایت کی تھی جبکہ 11 اراکین اس کی مخالفت کی تھی۔ کمیٹی میں شامل اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے اس بل پراعتراض ظاہرکیا۔ اپوزیشن کے اراکین پارلیمنٹ نے اس رپورٹ کو غیرآئینی بتاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ یہ قدم وقف بورڈ کوبرباد کردے گا۔
جے پی سی میں 14 ترامیم کو منظوری
جے پی سی نے اس بل میں 14 ترامیم کو منظوری دی تھی۔ ان میں وقف بورڈ میں غیرمسلم اراکین کو شامل کرنا، بورڈ میں خواتین کی تقرری، وقف جائیداد، ضلع مجسٹریٹ کا کردار، وقف بورڈ کی جائیداد کا ڈیجیٹلائزیشن، غیرقانونی قبضہ روکنے، وقف ٹریبونل کی طاقت بڑھانا، سی ای اوکی تقرری اوروقف بورڈ کے ڈھانچے میں تبدیلیوں سمیت کئی ترامیم شامل ہیں۔
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے دکھائی طاقت
وقف ترمیمی بل 2024 کو پارلیمنٹ سے منظورکرانے کی تیاری چل رہی ہے۔ اس درمیان آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ذریعہ دہلی کے جنترمنترپر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں جماعت اسلامی ہند، مرکزی جمعیت اہلحدیث ہند، جمعیۃ علماء ہند کے علاوہ مختلف ملی تنظیموں کے رہنماؤں نے حمایت دیتے ہوئے احتجاج میں حصہ لیا۔ وہیں اپوزیشن نے بھی اس میں بھرپور ساتھ دیا۔ س موقع پرکانگریس جنرل سکریٹری اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹرسید ناصر حسین، سہارنپورکے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود، ٹی ایم سی کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا، رکن پارلیمنٹ عمران مسعود، بہارکے پورنیہ کے رکن پارلیمنٹ پپویادو، سماجوای پارٹی کے رکن پارلیمنٹ دھرمیندریادو، ایودھیا کے رکن پارلیمنٹ اودھیش پرساد، رام پورکے رکن پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی، سنبھل کے رکن پارلیمنٹ ضیاء الرحمن برق، کشن گنج کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹرجاوید احمد، عام آدمی پارٹی کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان، سابق رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی، سابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب کے علاوہ وغیرہ نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب…
فلم ساز سنجے گپتا کے اچانک انتقال کی خبر سے بالی ووڈ میں غم کی…
خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے…
جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت…
آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…
کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…