بامبے ہائی کورٹ نے پیر کو صنعت کار گوتم اڈانی اور ان کے بھائی راجیش اڈانی کو مارکیٹ کے ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں کے ایک مقدمے میں بری کر دیا ہے۔ جسٹس آر این لڈّھا کی سنگل بنچ نے سیشن کورٹ کے اس حکم کو منسوخ کر دیا جس میں کمپنی اڈانی انٹرپرائزز اور اڈانی برادران کو کیس سے بری کرنے کے مجسٹریٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا تھا۔
کیا تھا معاملہ؟
پی ٹی آئی کے مطابق یہ معاملہ تقریباً 388 کروڑ روپے کے گھوٹالے سے متعلق تھا، جو کہ سیریس فراڈ انویسٹی گیشن آفس کی تحقیقات کے دوران کمپنی کے ریگولیٹری تعمیل اور مالیاتی لین دین میں ملنے والی خامیوں کی بنیاد پر تھا۔ ایجنسی نے 2012 میں اڈانی انٹرپرائزز لمیٹڈ اور اس کے پروموٹرز گوتم اڈانی اور راجیش اڈانی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ اس کے بعد سنگین دھوکہ دہی کے تحقیقاتی دفتر نے اڈانی سمیت 12 افراد کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ ممبئی کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے مئی 2014 میں انھیں کیس سے بری کر دیا تھا۔
تاہم تحقیقی ایجنسی نے مجسٹریٹ عدالت کے اس حکم کو چیلنج کیا اور نومبر 2019 میں ایک سیشن عدالت نے مجسٹریٹ عدالت کا حکم منسوخ کر دیا اور ایجنسی نے اڈانی گروپ کے ذریعہ غیر قانونی فائدہ حاصل کرنے کا مقدمہ بنایا۔ جس کے بعد اڈانی برادران نے ہائی کورٹ کے سامنے اپنی درخواست میں سیشن کورٹ کے اس حکم کو ’’من مانی اور غیرقانونی‘‘ قرار دیا۔ اڈانی انٹرپرائزز نے 2019 میں ہائی کورٹ کا رخ کیا تھا۔ کافی عرصے تک زیر التوا رہنےکے بعد یہ مقدمہ جاری ہوا اور ہائی کورٹ نے پیر کو دونوں کو کیس سے بری کردیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کی جانب…
فلم ساز سنجے گپتا کے اچانک انتقال کی خبر سے بالی ووڈ میں غم کی…
خفیہ میٹنگ کی اطلاعات کے بعد کوئی بھی رکن اسمبلی کھل کرکیمرے کے سامنے قیادت کے…
جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ منتظمہ کے دو روزہ اجلاس میں ملک کی موجودہ صورت…
آسام کے گوہاٹی میڈیکل کالج (جی ایم سی ایچ) میں ہندوستان کا پہلا سرکاری اور…
کموڈیٹی مارکیٹ میں زبردست فروخت کے دباؤ کے باعث سونے اور چاندی کی قیمتوں میں…