امریکہ نے بھارت کے شانتی بل 2025 کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے درمیان انرجی تحفظ کے شعبے میں تعاون مضبوط بنانے اور پُرامن سول نیوکلیئر شراکت داری کو آگے بڑھانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس قانون سے نہ صرف بھارت کے جوہری توانائی کے شعبے میں اصلاحات آئیں گی بلکہ بھارت۔امریکہ تعلقات کو بھی نئی مضبوطی ملے گی۔ پیر کے روز بھارت میں امریکی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ہم بھارت کے نئے شانتی بل کا خیرمقدم کرتے ہیں، جو مضبوط انرجی تحفظ شراکت داری اور پُرامن سول نیوکلیئر تعاون کی جانب ایک قدم ہے۔ امریکہ انرجی کے شعبے میں مشترکہ اختراع اور تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) کے لیے تیار ہے‘‘۔ امریکی بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مستقبل میں دونوں ممالک توانائی کے شعبے میں مل کر نئے امکانات تلاش کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ شانتی بل کا مکمل نام ’’سَسٹین ایبل ہارنیسنگ اینڈ ایڈوانسمنٹ آف نیوکلیئر انرجی فار ٹرانسفارمنگ انڈیا بل 2025‘‘ ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ نے گزشتہ ہفتے اس قانون کو منظور کیا تھا۔ اس بل کا مقصد بھارت کے جوہری توانائی سے متعلق قانونی ڈھانچے کو جدید بنانا اور اسے موجودہ دور کی ضروریات کے مطابق ڈھالنا ہے، جبکہ سخت ضابطہ جاتی نگرانی کے تحت نجی شعبے کی محدود شمولیت کی بھی اجازت دی گئی ہے۔
اب تک بھارت میں جوہری توانائی کے بیشتر منصوبے سرکاری شعبے کے تحت چلائے جاتے تھے، اگرچہ کچھ خاص معاملات میں مشترکہ منصوبوں کی اجازت موجود تھی۔ شانتی بل کے نفاذ کے بعد اس نظام میں بڑی تبدیلی آئے گی۔ نئے قانون کے تحت اہل کمپنیاں اور مشترکہ منصوبے بھارت میں جوہری بجلی گھروں یا ری ایکٹروں کی تعمیر، ملکیت، آپریشن اور حتیٰ کہ ڈی کمیشننگ بھی کر سکیں گے، بشرطیکہ وہ طے شدہ لائسنس شرائط پر پورا اتریں۔
بل میں واضح کیا گیا ہے کہ لائسنس جاری کرنے سے قبل حفاظتی اجازت لازمی ہوگی، خاص طور پر تابکاری کے اثرات سے متعلق سخت اصولوں پر عمل ضروری ہوگا۔ قانون کے مطابق لائسنس مرکزی حکومت کے کسی بھی محکمہ، سرکاری ادارے، سرکاری کمپنی، نجی کمپنی، مشترکہ منصوبے یا کسی ایسے فرد یا ادارے کو دیا جا سکتا ہے جسے مرکزی حکومت نوٹیفکیشن کے ذریعے اجازت دے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ شانتی بل بھارت کے جوہری توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور عالمی تعاون کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے اس بل کی حمایت کو بھارت۔امریکہ تعلقات میں توانائی اور نیوکلیئر تعاون کے حوالے سے ایک مثبت پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
مرکزی وزیر نے کہا، پروگرام کی پیشگی اطلاع نہیں تھی، پارٹی میں کسی طرح کا…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اے بی وی…
فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز اور فن لینڈ جیسے ممالک میں ریاضی، مطالعہ اور سائنس میں طلبہ…
ڈبل اولمپک میڈلسٹ منو بھاکر نے کہا، بھارتی دستے کی قیادت کرتے ہوئے ترنگا تھامنا…
اڈانی گروپ نے بھارتی اولمپک ایسوسی ایشن کے ساتھ شراکت داری کی تجدید کی، جاپان…
وجیندر نے مرکزی وزیر داخلہ کو پارٹی کی تنظیمی سرگرمیوں اور کرناٹک حکومت کے خلاف…