جالور: راجستھان کے جالور ضلع سے سامنے آنے والے ایک فیصلے نے سماجی اور سیاسی سطح پر شدید بحث کو جنم دے دیا ہے۔ سندھا ماتا پٹی علاقے میں چودھری (پٹیل) سماج کے پنچوں نے 24 سے زائد گاؤں میں خواتین، نوجوان لڑکیوں اور طالبات کے اسمارٹ فون استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کو خواتین کی آزادی، اظہارِ رائے اور ڈیجیٹل حقوق کے خلاف قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حامی طبقہ اسے سماجی بگاڑ روکنے کی کوشش بتا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق 21 دسمبر کو منعقدہ چودھری سماج کی ایک میٹنگ میں یہ قرارداد منظور کی گئی، جس میں کہا گیا کہ گاؤں کی بہو بیٹیاں اب اسمارٹ فون استعمال نہیں کریں گی۔ یہ فیصلہ جالور ضلع کے بھیِن مال اور رانی واڑہ اسمبلی حلقوں کے کئی گاؤں میں نافذ کرنے کی بات کہی جا رہی ہے۔ قرارداد میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اسکول اور کالج میں پڑھنے والی طالبات کو بھی اسمارٹ فون سے دور رکھا جائے گا۔
سماج کے نمائندوں نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قدم موبائل فون کی بڑھتی ہوئی لت کو روکنے اور بچوں و نوجوانوں پر اس کے منفی اثرات کو کم کرنے کے مقصد سے اٹھایا گیا ہے۔ چودھری سماج کے صدر کے مطابق، میٹنگ میں طویل بحث کے بعد یہ طے پایا کہ خواتین اسمارٹ فون کے بجائے کی پیڈ موبائل فون استعمال کر سکتی ہیں، تاکہ ضروری رابطہ برقرار رہے مگر سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے غیر ضروری استعمال سے بچا جا سکے۔ اس فیصلے کا باقاعدہ اعلان سماج کے پنچوں کی جانب سے کیا گیا۔
تاہم اس فیصلے پر سخت اعتراضات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب مرکز اور ریاستی حکومتیں خواتین کو ڈیجیٹل طور پر بااختیار بنانے کے لیے مختلف اسکیمیں چلا رہی ہیں، اس طرح کے سماجی فیصلے خواتین کو پیچھے دھکیلنے کے مترادف ہیں۔ حالیہ برسوں میں راجستھان حکومت کی جانب سے خواتین کو ٹیبلیٹ فراہم کرنے، آن لائن تعلیم اور ڈیجیٹل تربیت جیسی اسکیمیں متعارف کرائی گئی ہیں، تاکہ وہ تعلیم، روزگار اور خود کفالت کی طرف بڑھ سکیں۔
اس فیصلے میں جن گاؤں کے نام سامنے آئے ہیں، ان میں گجاپورا، گجی پورا، پاولی، مال واڑا، راج پورا، خان پور، آلڈی، روپسی اور کاغ مالا سمیت کئی دیگر گاؤں شامل ہیں۔ قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اسی سماج سے وابستہ کئی بااثر سیاسی شخصیات بھی ہیں، جن میں جالور-سیروہی سے موجودہ اور سابق ارکانِ پارلیمنٹ، ریاستی حکومت کے وزراء اور موجودہ و سابق ایم ایل ایز شامل رہے ہیں۔ اس وجہ سے یہ معاملہ مزید حساس ہو گیا ہے۔ معاملے پر جالور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ شیلندر اندولیا نے کہا کہ فی الحال پولیس کے پاس اس طرح کے کسی سرکاری یا قانونی حکم کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی خاتون کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف شکایت درج کرائی جاتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ماہرینِ قانون کا بھی کہنا ہے کہ کسی بھی غیر سرکاری ادارے یا سماجی پنچایت کو شہریوں کے بنیادی حقوق سلب کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ فی الحال یہ معاملہ سوشل میڈیا، سیاسی حلقوں اور سماجی تنظیموں میں زیرِ بحث ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پر انتظامیہ اور حکومت کیا مؤقف اختیار کرتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…
وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو کہا کہ پائیدار ترقی (Sustainability) ہندوستان کی روایت…
اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…
لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…
بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…
وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…