مرکزی وزیر کرن رجیجو پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران۔
وقف ترمیمی بل پر پارلیمنٹ میں بحث جاری ہے۔ کانگریس نے لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل کی سخت مخالفت کی ہے۔ کانگریس ایم پی کے سی وینوگوپال نے یہ بل لانے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہ حکومت مقننہ کو بلڈوز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انھوں نے ایوان میں ارکان کی طرف سے تجویز کردہ ترامیم پر بھی سوالات اٹھائے۔ اس کے جواب میں اقلیتی وزیر کرن رجیجو نے اپوزیشن پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا۔ دریں اثنا لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے واضح کیا کہ سرکاری اور غیرسرکاری دونوں ترمیمات کے لیے برابر وقت دیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ تمام اراکین کو اظہار خیال کا پورا موقع دیا جا رہا ہے اور جمہوری عمل کے مطابق اس بل پر بحث ہو رہی ہے۔
اپوزیشن عوام کو گمراہ کر رہی ہے: کرن رجیجو
اس دوران اقلیتی وزیر کرن رجیجو نے پارلیمنٹ میں اپوزیشن پر لوگوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وقف بورڈ کا کام وقف املاک کا انتظام کرنا نہیں ہے۔ آئین کی دفعہ 25(1) کا حوالہ دیتے ہوئے رجیجو نے کہا کہ حکومت کسی مذہبی سرگرمی میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ انھوں نے کہا ’’اس بال کا کسی مسجد یا مندر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ صرف وقف املاک کے انتظام سے متعلق معاملہ ہے۔‘‘ کرن رجیجو کے اس بیان کے بعد لوک سبھا میں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے درمیان گرماگرم بحث ہوئی۔
کانگریس پر لگائے وقف بورڈ کو زمینیں دینے کا الزام
لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پر بحث کے دوران مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کانگریس کو نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جب آئندہ عام انتخابات قریب تھے اور ضابطہ اخلاق لاگو ہونے والا تھا، تب 5 مارچ 2014 کو یو پی اے حکومت نے 123 اہم جائیدادیں دہلی وقف بورڈ کو منتقل کر دیں۔انھوں نے کہا کہ اس فیصلے سے کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہوا کیوں کہ عوام اب بہت سمجھدار ہے۔ اسی لیے اس قانون میں ترمیم کی ضرورت ہے۔
وقف بل کا مسجد سے کوئی تعلق نہیں: کرن رجیجو
کرن رجیجو نے واضح کیا ہے کہ یہ بل صرف وقف املاک سے متعلق ہے نہ کہ مساجد سے۔ انھوں نے کہا کہ اس میں کچھ دفعات رکھی گئی ہیں جن کے مطابق کم از کم 5 سال کا انتظامی تجربہ رکھنے والا شخص ہی وقف کے معاملات دیکھ سکتا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ شیعہ، سنی، پسماندہ ذاتوں کے لوگ اور خواتین سبھی اس میں شامل ہوں گے۔
کرن رجیجو نے وقف کے موجودہ انتظامی امور پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں پوری دنیا کے مقابلے سب سے زیادہ وقف املاک ہیں، پھر بھی غریب مسلمانوں کے لیے آج تک کچھ کیوں نہیں کیا گیا؟ انھوں نے اس بل کی مخالفت کرنے والوں سے سوال کیا کہ اگر ملک میں اتنی زیادہ وقف جائیداد ہے تو غریب مسلمانوں کے مفاد میں اس کا صحیح استعمال کیوں نہیں کیا جا رہا ہے؟
بھارت ایکسپریس اردو
مہاراشٹر کے ہنگولی شہر میں پیر کی رات ایک دردناک حادثہ پیش آیا۔ شہر کے…
تعلیمی سیشن 27-2026 سے RBSE کی 10ویں جماعت کے طلبہ کو سال میں دو مرتبہ…
موسم سرما کے شیڈول سے قبل نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے لیے مناسب کرائے والی…
لندن ہیتھرو سے شکاگو جا رہی برٹش ایئرویز کی BA295 پرواز نے آئرلینڈ کے اوپر…
گومتی میں بڑھتی آبی سطح اور حالیہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیر اعلیٰ یوگی…
راہل گاندھی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار پر فارم-6 میں غیر قانونی اور یکطرفہ…