قومی

Jamaat-e-Islami Hind on deportation of Rohingya refugees: روہنگیا پناہ گزینوں کی جبری ملک بدری آئینی اوربنیادی انسانی حقوق کے خلاف، جماعت اسلامی ہند نے اٹھایا سوال

نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیرپروفیسرسلیم انجینئرنے روہنگیا پناہ گزینوں کی غیرانسانی اورجبری ملک بدری پراپنی سخت تشویش کا اظہارکیا ہے۔ میڈیا کے لئے جاری ایک بیان میں پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ ہم 43 روہنگیا پناہ گزینوں، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اوربیمارشامل ہیں، کی جبری ملک بدری پرگہری تشویش کا اظہارکرتے ہیں۔ معتبرمیڈیا رپورٹس کے مطابق، ان پناہ گزینوں کوآنکھوں پرپٹیاں اورہاتھ پیرباندھ کرنئی دہلی سے پورٹ بلیئرمنتقل کیا گیا اور8 مئی 2025 کوانہیں میانمارکے ساحل کے قریب بین الاقوامی سمندرمیں چھوڑدیا گیا۔

جماعت اسامی کا کہنا ہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق، حکام کی طرف سے متاثرین کویہ کہا گیا کہ انھیں کسی محفوظ ملک منتقل کیا جا رہا ہے۔ جب یہ پناہ گزیں تیرکرساحل پرپہنچے توان کوپتہ چلا کہ وہ دوبارہ اسی ملک میں واپس پہنچ چکے ہیں، جہاں سے وہ نسل کشی سے بچنے کے لئے فرارہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگریہ بات سچ ہے تویہ بھارت کے آئینی اورانسانی اصولوں سے ایک افسوسناک اورشرمناک انحراف ہے۔

پروفیسرسلیم انجینئرنے کہا کہ ہم حکومت کویاد دلانا چاہتے ہیں کہ بھارت نے اقوام متحدہ کے کنونشن اگینسٹ ٹارچرکے منشورپردستخط کئے ہیں جو’ریفیولمنٹ’ یعنی کسی شخص کی ایسی جگہ جبری واپسی کی ممانعت کرتا ہے، جہاں اس کی جان یا آزادی کو خطرہ لاحق ہو۔ بین الاقوامی عدالت انصاف نے روہنگیا کو نسل کشی کا شکارقراردیا ہے۔ ایسے میں انہیں میانمارواپس بھیجنا بین الاقوامی قوانین کے خلاف اوراخلاقی ذمہ داریوں سے فرارکے مترادف ہے۔

آپ کو بتادیں کہ جن افراد کوملک بدر کیا گیا وہ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین (یواین ایچ سی آر) کے ساتھ رجسٹرڈ تھے اور ان کے پاس با قاعدہ شناختی کارڈز موجود تھے۔ ان کی جبری ملک بدری بین الاقوامی انسانی اصولوں اوربھارت کی تاریخ میں مظلوموں کے لیے پناہ گاہ کے کردار کے خلاف ہے۔ انسانوں کو مجرموں کی طرح ملک بدر کرنا وہ بھی سمندرمیں ان کی جان خطرے میں ڈال کر، غیرانسانی اور ناقابل قبول ہے۔ ہم حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر روہنگیا پناہ گزینوں کی جبری ملک بدری کے سلسلے کوروکا جائے، ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ظلم کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹگھرے میں لایا جائے۔ پروفیسر سلیم نے کہا کہ ہم عدلیہ سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ بھارت کے آئین کی دفعہ 21 کے خلاف ہوئی اس کاروائی کا ازخود نوٹس لے اور مظلومین کوتحفظ فراہم کرے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Nisar Ahmad

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

1 hour ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

2 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

3 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

4 hours ago