72 سالہ رضیہ سلطانہ (بیٹھی ہوئیں) اپنے اہل خانہ کے ساتھ۔
بھونیشور: 72 سالہ رضیہ سلطانہ کے اہل خانہ اس وقت سے صدمے میں ہیں جب سے بالاسور ضلع انتظامیہ نے رضیہ سلطانہ کو اتوار کو یا اس سے پہلے ہندوستان چھوڑنے اور پاکستان جانے کا نوٹس جاری کیا ہے۔ یہ نوٹس کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستانی شہریوں کی شناخت کرنے اور ان کی فوری پاکستان واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ریاستوں کو مرکز کی ہدایت کے تناظر میں بھیجا گیا ہے۔ تاہم رضیہ نے اس نوٹس کو ماننے سے انکار کر دیا ہے اور اپنے کاغذات دکھاتے ہوئے دوبارہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
میں یہیں پیدا ہوئی ہوں اور یہیں مروں گی: رضیہ
تاہم رضیہ اور اس کے کنبہ کے افراد نے، جو سورو پولیس حدود کے تحت پٹھان محلہ میں رہتے ہیں،اصرار کیا کہ ایک سنگین غلطی ہوئی ہے کیوں کہ رضیہ پیدائشی طور پر ہندوستانی شہری ہے۔ رضیہ نے اپنے شناختی کاغذات دکھاتے ہوئے کہا ’’میں یہیں پیدا ہوئی، یہ میری مٹی ہے۔ میں یہیں رہوں گی اور یہیں مروں گی۔‘‘ واضح رہے کہ رضیہ کو گردے کی بیماری سمیت کئی بیماریاں ہیں اور ان کی عمر 72 سال ہو چکی ہے۔ گھر والوں نے بتایا کہ وہ نوٹس ملنے کے بعد سے خوف کی حالت میں ہیں اور پچھلے 24 گھنٹوں میں نہ انھوں نے کچھ کھایا ہے اور نہ ہی سوئی ہیں۔ ایسی عمر میں اور متعدد بیماریوں کے ساتھ رضیہ اور ان کے اہل خانہ پر یہ نوٹس پہاڑ بن کر ٹوٹا ہے۔
کولکاتا میں پیدا ہونے والی رضیہ کبھی بھی پاکستان نہیں گئیں
واضح رہے کہ رضیہ کے والد حیدر علی بہار اور کولکاتا میں رہتے تھے، جن کی شادی سورو کے قاضی محلہ میں ہوئی تھی۔ ان کی تین بیٹیوں میں سے درمیانی رضیہ 1953 میں کولکاتا میں پیدا ہوئیں اور رضیہ کی شادی پٹھان محلہ کے شیخ شمس الدین سے ہوئی، جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ رضیہ کی بیٹی نے بتایا کہ رضیہ کے والد ان کی شادی کے بعد پاکستان چلے گئے تھے، لیکن رضیہ کبھی ہندوستان سے باہر نہیں گئیں۔ ان کی بیٹی سلمیٰ پروین نے کہا ’’میری والدہ یہیں پیدا ہوئیں اور یہیں ان کی شادی ہوئی۔ وہ اپنی زندگی میں کبھی پاکستان نہیں گئیں۔ ان کے پاس آدھار کارڈ، ووٹر آئی ڈی، پین کارڈ اور رہائشی سرٹیفکیٹ ہے۔ ان کے کوئی بھی پاکستانی دستاویز یا ویزا نہیں ہے۔ انتظامیہ انھیں ایسے جانے کے لیے کیسے کہہ سکتی ہے؟‘‘
جب انھیں اپنے بچوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، تبھی انھیں ان سے کیوں الگ کیا جا رہا ہے؟: سلمیٰ پروین
سلمیٰ نے مزید کہا کہ ’’جب انھیں اپنے بچوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، تبھی انھیں ان کے بچوں کے کیسے الگ کیا جا سکتا ہے؟ میری والدہ نہ کبھی پاکستان گئی ہیں نہ پاکستان میں کسی کو جانتی ہیں، تو انھیں ایسے ایک اجنبی ملک میں کیسے بھیجا جا سکتا ہے؟‘‘ نوٹس پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے رضیہ اور ان کے اہل خانہ نے انتظامیہ سے دوبارہ جانچ کرنے اور اسے واپس لینے کی درخواست کی ہے۔
پولیس نے کہا کہ حکومت کو دی گئی ہے اطلاع، ہدایات کے مطابق ہوگی کارروائی
دریں اثنا بالاسور کے ایس پی راج پرساد نے کہا کہ ’’رضیہ کو ملک بدری کا نوٹس سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر دیا گیا ہے، جس کے مطابق وہ ہندوستانی شہری نہیں ہیں۔ ہو سکتا ہے انھوں نے آدھار اور دیگر دستاویزات حاصل کر لیے ہوں، لیکن قانون کے مطابق، اگر وہ دعوی کرتی ہے کہ وہ یہاں اتنے عرصے سے مقیم ہے، تو اسے باضابطہ طور پر ہندوستانی شہریت کے لیے درخواست دینی چاہیے تھی۔ ہم حکومت کو مطلع کریں گے اور مزید ہدایات کے مطابق کارروائی کریں گے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
پیوپلس اویرنس فورم کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ زیڈ کے فیضان نے…
ایشین گیمز 2026 میں میرابائی چانو نے خواتین کے 49 کلوگرام ویٹ لفٹنگ مقابلے میں…
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکی صدر ڈونلڈ…
خصوصی گہری نظرثانی یعنی ایس آئی آر کو لے کر شیوسینا (یو بی ٹی) کے…
گریٹر نوئیڈا کے دیولا میں سرکاری اسکول کا معائنہ کرنے پہنچے سی جے پی ترجمان…
وزیر اعظم نریندر مودی نے بدھ کو کابینہ کے ارکان کے ساتھ ’چنتن شِور‘ کا…