چنئی: تمل ناڈو کے ضلع ویرودھونگر میں ایک پٹاخہ فیکٹری میں اتوار کی صبح پیش آنے والے ہولناک دھماکے نے پورے علاقے کو دہلا کر رکھ دیا۔ اس افسوسناک حادثے میں کم از کم 19 مزدوروں کی جان چلی گئی، جبکہ کئی دیگر شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ حادثے کے بعد علاقے میں افرا تفری اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہو گیا، اور فوری طور پر ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہو گئیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق یہ دھماکہ ویرودھونگر کے قریب کٹنرپتی علاقے میں واقع ایک نجی پٹاخہ فیکٹری میں پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس فیکٹری میں بڑی تعداد میں مقامی مرد و خواتین مزدور کام کرتے تھے، جن کی روزی روٹی کا انحصار اسی صنعت پر تھا۔ اتوار کی صبح بھی مزدور معمول کے مطابق اپنے کام میں مصروف تھے کہ اچانک فیکٹری کے ایک حصے میں زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں دیکھتے ہی دیکھتے چار عمارتیں زمین بوس ہو گئیں۔
دھماکے کے بعد فیکٹری کے اندر کام کرنے والے 20 سے زائد مزدور ملبے تلے دب گئے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ پورا علاقہ سیاہ دھوئیں کے بادلوں سے ڈھک گیا۔ آس پاس کے لوگوں نے فوراً پولیس اور فائر بریگیڈ کو اطلاع دی، جس کے بعد امدادی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد آگ پر جزوی طور پر قابو پایا جا سکا، جس کے بعد ملبے میں پھنسے افراد کو نکالنے کا عمل شروع کیا گیا۔ ریسکیو آپریشن کے دوران 19 مزدوروں کی لاشیں برآمد کی گئیں، جن کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ وہ شدید آگ کی لپیٹ میں آ کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس کے علاوہ پانچ سے زائد مزدوروں کو شدید زخمی حالت میں قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ کچھ زخمیوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔
پولیس نے تمام لاشوں کو اپنی تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا ہے اور واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ حکام فیکٹری کے مالک اور انتظامیہ سے بھی پوچھ گچھ کر رہے ہیں تاکہ دھماکے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔ ابتدائی طور پر یہ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حفاظتی اصولوں میں کوتاہی اس حادثے کا سبب بن سکتی ہے، تاہم حتمی رپورٹ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔ اس واقعے کے بعد علاقے میں غم و غصہ پایا جا رہا ہے، کیونکہ ویرودھونگر ضلع میں پٹاخہ صنعت پہلے بھی کئی حادثات کا شکار ہو چکی ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بار بار پیش آنے والے ایسے حادثات کے باوجود حفاظتی اقدامات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی، جس کے باعث مزدوروں کی جانیں خطرے میں رہتی ہیں۔
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے اس المناک حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ ویرودھونگر کے کٹنرپتی علاقے میں پیش آنے والے دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع کی خبر انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتے ہوئے متعلقہ وزراء کو فوری طور پر موقع پر پہنچ کر امدادی کاموں کی نگرانی کرنے اور متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس حادثے پر دکھ کا اظہار کیا ہے اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن امداد فراہم کی جائے گی اور حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
آر ایس ایس سربراہ نے نوجوانوں، تعلیم، برین ڈرین اور کردار سازی پر خیالات کا…
بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا اختتامی سیشن بھی بہت خاص ہونے جا رہا…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی میں بھارت ایکسپریس اردو کے نیشنل کانکلیو کا تیسرا…
بِمسٹیک کے نوڈل گروپ کا دوسرا اجلاس بھی منعقد، روایتی طبی معلومات کے تحفظ، دستاویز…
مورخہ 17 ستمبر کو نئی دہلی کے انڈیا انٹرنیشنل سینٹر میں ہونے والے تیسرے ایڈیشن…
اگلے سال اتر پردیش، پنجاب، اتراکھنڈ سمیت 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔ پنجاب…