قومی

Remarks against the Prophet Muhammad: پیغمبرمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف متنازعہ تبصرہ پرسپریم کورٹ کا فوری سماعت سے انکار، عدالت عظمیٰ نے دی یہ بڑی ہدایت

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیرکے روزایک سوشل میڈیا انفلوئنسرکی جانب سے حضرت محمد ﷺ کے بارے میں مبینہ توہین آمیزتبصروں کے خلاف دائردرخواست پر فوری سماعت کرنے سے انکارکردیا۔ جسٹس احسان الدین امان اللہ اورجسٹس شیل ناگوکی بنچ کے سامنے وکیل رجت کمارنے یہ معاملہ پیش کیا۔ بنچ نے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (اے اوآر) انصاراحمد چودھری کی درخواست کوفوری طورپرفہرست میں شامل کرنے سے انکارکردیا۔

درخواست گزارکے وکیل نے عدالت کوبتایا کہ مبینہ تبصروں سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثرہوسکتی ہے۔ اس پربنچ نے درخواست گزارکومتعلقہ پولیس حکام سے رجوع کرنے اورسسٹم پربھروسہ رکھنے کی ہدایت دی۔ رپورٹس کے مطابق، ایک سوشل میڈیا انفلوئنسرنے جون میں ایک پوڈکاسٹ کے دوران حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اورپیغمبراسلام کے اہلِ خانہ کے بارے میں مبینہ طورپرتوہین آمیزتبصرے کئے تھے۔ ان تبصروں کے ویڈیو کلپس سوشل میڈیا پربھی وائرل ہوئے، جس کے بعد انفلوئنسر کے خلاف مختلف مقامات پرکئی ایف آئی آردرج کی گئیں۔

سپریم کورٹ نے عرضی گزار کو دی یہ ہدایت

سماعت کے دوران بنچ نے کہا، ’’کیا آپ نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے؟ پولیس موجود ہے، ہمارے نظام پراعتماد رکھیں۔‘‘ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگرمعمول کے قانونی طریقۂ کارکے باوجود مناسب کارروائی نہ ہوتومعاملہ دوبارہ عدالت کے سامنے لایا جا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس کا کردارنگرانی کرنا ہے اوریہ بھی دیکھنا ہے کہ نچلی سطح کے افسران اپنی ذمہ داریاں صحیح طریقے سے انجام دے رہے ہیں یا نہیں۔ عدالت نے یہ بھی خبردارکیا کہ ایسے معاملات کوغیرضروری طور پرسنسنی خیزنہیں بنایا جانا چاہئے۔

مذہبی شخصیات کے خلاف توہین آمیز مواد نشرکرنے سے متعلق رہنما اصول بنانے کا مطالبہ

درخواست میں سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل اورسوشل میڈیا پلیٹ فارمزپرایسی توہین آمیزیا اشتعال انگیزمواد کی اشاعت اورتشہیرکوروکنے اوراس کے ضابطے کے لئے مناسب رہنما اصول یا قواعد بنانے کی ہدایت دے، جس میں جان بوجھ کرمذہبی شخصیات، بشمول حضرت محمد ﷺ اوربھگوان شری رام، کے خلاف توہین آمیزمواد نشرکیا جاتا ہو۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ متعلقہ حکام کوآن لائن پلیٹ فارمز کے مبینہ غلط استعمال کوروکنے کے لیے مؤثراقدامات کرنے کی ہدایت دی جائے تاکہ مذہبی جذبات کوٹھیس پہنچانے اورمختلف برادریوں کے درمیان نفرت یا دشمنی پھیلانے والے مواد کی روک تھام کی جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

‘I Was Ashamed of Being a Hindu’: ’مجھے ہندو ہونے پر شرمندگی ہو رہی تھی‘، سوّرا بھاسکر نے بابری مسجد کے خلاف ہوئے فیصلے پر کیا اظہارِ خیال

سوّرا بھاسکر نے 2019 کے ایودھیا فیصلے کو ’غیر منصفانہ‘ قرار دیتے ہوئے مسلم دوستوں…

10 hours ago

Meri Degree Ka Kya Campaign: یوتھ کانگریس نے شروع کی ’میری ڈگری کا کیا؟‘ مہم، ایک سال میں سرکاری عہدے پُر کرنے کا مطالبہ

سرکاری محکموں میں خالی منظور شدہ عہدوں کو ایک سال کے اندر پُر کرنے کا…

11 hours ago

Kiren Rijiju Speech Bharat Express Urdu Conclave: عشق کرنا ہے تو اردو سیکھیے! بزمِ صحافت میں کرین رجیجو نے کہا-یہ ہندوستانی زبان ہے

بھارت ایکسپریس اردو کے ’بزمِ صحافت‘ میں مرکزی وزیر کرین رجیجو نے اردو کو گنگا…

12 hours ago

Shahnawaz Hussain At Bharat Express Urdu Conclave: ’اپیندر رائے اردو کے سب سے بڑے دوست‘، بزمِ صحافت میں شاہنواز حسین نے کھل کر کی تعریف

شاہنواز حسین نے کہا، اردو کو بھلائے جانے کے دور میں اپیندر رائے اسے آگے…

13 hours ago