سپریم کورٹ
مغربی بنگال کو بڑی راحت دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایسے برطرف شدہ اساتذہ کی خدمات میں توسیع کر دی ہے، جنھیں سی بی آئی نے اپنی جانچ میں غیرداغدار پایا ہے۔ چیف جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار پر مشتمل بنچ نے ریاستی حکومت کی عرضیوں کا نوٹس لیا کہ مختلف اسکولوں میں پڑھائی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور نئی بھرتی میں وقت لگے گا۔
تاہم عدالت عظمیٰ نے ریاستی حکومت کے زیر انتظام اور امداد یافتہ اسکولوں کے گریڈ سی اور گریڈ ڈی ملازمین کی خدمات میں توسیع نہیں کی ہے۔ اس نے ریاستی حکومت کو 31 مئی یا اس سے پہلے بھرتی کا عمل شروع کرنے اور اس سال 31 دسمبر تک اسے مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے ریاستی حکومت اور اس کے ڈبلیو بی ایس ایس سی (ویسٹ بنگال اسکول سروس کمیشن) سے کہا کہ وہ 31 مئی کو یا اس سے پہلے بھرتی کے عمل کے آغاز کے بارے میں مطلع کرتے ہوئے تعمیل کا حلف نامہ داخل کریں۔ بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ فیصلہ طلباء کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے، کیوں کہ کلاس 9 سے 12 کے 17,000 سے زیادہ اسسٹنٹ اساتذہ کی اچانک برطرفی سے کئی ریاستی سرکاری اور سرکاری امداد یافتہ اسکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی ہے۔
واضح رہے کہ 3 اپریل کو سپریم کورٹ نے ایک بڑا فیصلہ دیتے ہوئے ریاست کے زیر انتظام اور امداد یافتہ اسکولوں میں 25,753 اساتذہ اور عملے کی تقرری کو ’’خراب اور داغدار‘‘ قرار دیتے ہوئے کالعدم کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد بنگال میں سیاسی بھونچال کے ساتھ ساتھ برطرف اساتذہ کا احتجاج بھی سامنے آیا۔ تاہم آج کے اپنے حکم میں سپریم کورٹ نے 22 اپریل 2024 کے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا اور تقرریوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ داغدار امیدواروں کو اپنی تنخواہوں/ادائیگیوں کو واپس کرنا چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل…
وزیر اعظم کے مجوزہ بہار دورے اور پروگرام کی تیاریوں کے سلسلے میں جمعرات کو…
ڈاکٹر کا الزام ہے کہ فلیٹ میں اتولیا سمیت 12 افراد موجود تھے۔ جیسے ہی…
نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں جمعرات کے روز بھارت کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے…
یو پی ایس سی نے واضح کیا ہے کہ انٹرویو کی تاریخ یا وقت میں…
وزیراعظم مودی کے نام لکھے گئے خط میں ماہر تعلیم اور ممتاز دانشور پروفیسر اخترالواسع…