قومی

Supreme Court Guidelines On Courtroom Violence: ’سب کچھ بکاؤ ہو جائے گا…‘ — سوشل میڈیا اور رپورٹنگ پر جسٹس سوریہ کانت کا سخت تبصرہ

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سابق چیف جسٹس بی آر گوائی پر ایک وکیل کی جانب سے جوتا پھینکنے کے واقعے کو نہایت سنگین قرار دیتے ہوئے مستقبل میں ایسی وارداتوں کی روک تھام اور ان کی رپورٹنگ و ڈیجیٹل گردش کو منظم کرنے کی ضرورت پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ اس معاملے کی سماعت چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی پر مشتمل بنچ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر درخواست پر کر رہی ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے واضح الفاظ میں کہا کہ عدالت اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے رہنما اصول (گائیڈ لائنز) جاری کرنے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس قسم کے واقعات کو بغیر ضابطے کے چھوڑ دیا گیا تو اس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ چیف جسٹس نے سوشل میڈیا اور رپورٹنگ کے موجودہ رجحان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا، ”اگر اس طرح کی کارروائیاں شروع ہو گئیں تو سب کچھ بکاؤ ہو جائے گا“۔ عدالت کو مرکز کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بتایا کہ مرکزی حکومت اس معاملے میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے ساتھ مل کر مشترکہ تجاویز پیش کرے گی، تاکہ ایسی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ اور ڈیجیٹل سرکولیشن کو ریگولیٹ کیا جا سکے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس اہم معاملے پر اگلی سماعت جنوری میں ہوگی۔

بنچ نے اس پہلو کو بھی اجاگر کیا کہ اگرچہ سابق چیف جسٹس بی آر گوائی نے وکیل راکیش کشور کو معاف کر دیا تھا اور اب عدالت کا فوکس مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام اور ان کے پھیلاؤ پر قابو پانے پر ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تشدد کو کسی بھی صورت میں فروغ نہیں دیا جا سکتا۔ جسٹس جوئے مالیہ باگچی نے سماعت کے دوران کہا کہ عدالتوں میں وکلا اور فریقین کا طرزِ عمل ہی عدالتی نظام کی بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے کئی نہایت اہم مقدمات زیرِ سماعت ہوتے ہیں اور ایسے واقعات عدالتی وقت کے ضیاع کا سبب بنتے ہیں۔ اس پر سینئر وکیل وکاس سنگھ نے کہا کہ مطالبہ یہ ہے کہ جوتا پھینکنے جیسے واقعات کی تشہیر پر روک لگائی جائے۔

قابلِ ذکر ہے کہ یہ واقعہ 6 اکتوبر کو پیش آیا تھا، جس کے بعد بار کونسل آف انڈیا نے سخت رویہ اختیار کرتے ہوئے متعلقہ وکیل کے خلاف کارروائی کی اور اس کا لائسنس منسوخ کر دیا۔ بعد ازاں ایک اور مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریہ کانت نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ وہ اس واقعے سے بہت صدمے میں تھے، تاہم ان کے لیے یہ اب ایک بھلا دیا گیا باب ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ مؤقف اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عدالتی وقار، ذمہ دارانہ رپورٹنگ اور سوشل میڈیا کے بے لگام استعمال پر اب سنجیدہ ضابطہ بندی کی سمت قدم بڑھایا جا سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔

Sibghatullah

Recent Posts

LPG Subsidy New Rules: ایل پی جی گیس بکنگ میں تبدیلی، یکم اکتوبر سے نئے اصول نافذ، سبسڈی کے لیے کرنا ہوگا یہ کام

یکم اکتوبر سے سبسڈی والے گھریلو ایل پی جی ری فل کی بکنگ کے لیے…

2 hours ago

JDU Internal Rift: جے ڈی یو میں اننت سنگھ اور نیرج کمار آمنے سامنے، پٹنہ گریجویٹ نشست پر بڑھا تنازع

اننت سنگھ نے نیرج کمار کے خلاف کھل کر محاذ کھولا، آزاد امیدوار انوج سنگھ…

3 hours ago

Andaman Tourism Vision: انڈمان کے سیاحتی شعبے کو نئی سمت دینے کی تیاری، قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے تیار ہوگا وژن ڈاکیومنٹ

لیفٹیننٹ گورنر ڈاکٹر دنیش شرما نے کہا کہ انڈمان نکوبار میں نئے سیاحتی مراکز تیار…

3 hours ago

Bharat Express Urdu Conclave: پاکستان نے گرچہ اردو کو اپنی زبان بنایا، لیکن اس کی جائے پیدائش اور اس کا خمیر ہندوستانی ہے: کرن رجیجو

بھارت ایکسپریس کے اردو صحافت کانکلیو میں مرکزی وزیر کرن رجیجو نے اردو کو محبت…

3 hours ago

Prime Minister Narendra Modi: ملک کو اپنے کھلاڑیوں پر فخر ہے، وہ بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شاندار کامیابی حاصل کریں: پی ایم مودی

وزیر اعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ آئچی-ناگویا میں…

4 hours ago