نئی دہلی: معروف فلمساز، تاریخ داں اورمشترکہ ثقافتی ورثے کے علم بردار سہیل ہاشمی نے انڈین ہسٹری فورم کے زیراہتمام منعقدہ ایک ویبینارمیں کہا کہ ہندوستان میں لباس، خوراک اور طرزِتعمیرکی روایات صدیوں پرمحیط باہمی میل جول، تبادلے اوراخوت کی عکاس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کا امیتازی سلوک ہندوستانی سماج کے لیے ناقابل قبول ہے۔ ’دی اسٹوری آف آوراٹائر، فوڈ اینڈ آرکیٹیکچر‘ کے عنوان سے منعقدہ ویبینارمیں 12ویں سے 18ویں صدی کے درمیان ہندوستانی سماج کے اس ارتقا کا جائزہ لیا گیا جومختلف خطّوں اورثقافتوں سے مسلسل رابطے کے نتیجے میں وجود میں آیا۔
سہیل ہاشمی نے کی قدیم ہندوستانی ثقافت کی وضاحت
سہیل ہاشمی نے کہا کہ موجودہ مباحث میں اکثر’بھارتی‘ ہونے کی نہایت محدود معنوں میں تعریفیں کی جاتی ہیں، جبکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ یہ ایک تہہ داراورمشترکہ عمل رہا ہے، جسے جغرافیہ، آب وہوا، ٹیکنالوجی اورلوگوں کی نقل وحرکت نے تشکیل دیا ہے۔ سہیل ہاشمی نے قدیم ہندوستانی ثقافت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان دنیا میں کپاس کی کاشت کرنے والے ابتدائی خطّوں میں شامل تھا اوریہاں دھوتی، ساڑی اورلُنگی جیسے بغیرسِلے ہوئے کپڑے پہنے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی ممالک سے رابطے کے ذریعہ قینچی کے آنے کے بعد ہی سلے ہوئے کپڑے ہندوستان میں عام ہوئے۔ آج جن ملبوسات کوبھارتی سمجھا جاتا ہے، جیسے کرتا، پاجامہ، قمیض، بلاؤزاورپیٹی کوٹ وغیرہ جبکہ ان کپڑوں کا تعلق بیرونی ممالک سے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیدائش، تعلیم، شادی اوروفات سے متعلق رسومات میں آج بھی بغیرسلے کپڑے استعمال ہوتے ہیں۔ اس طرح کے کپڑے طہارت کے قدیم تصورات کی عکاسی کرتے ہیں۔
بھارتی پکوانوں پرڈالی روشنی
روزمرہ کی خوراک پرگفتگوکرتے ہوئے سہیل ہاشمی نے کہا کہ بھارتی پکوانوں میں مختلف ممالک کی خورد ونوش کی روایت صاف طورپردکھائی دیتی ہے۔ کھانے کا یہ کلچرطویل عالمی تبادلوں کی تاریخ کے ذریعے تشکیل پایا ہے۔ اگرچہ کئی غذائیں مقامی ہیں، مگربہت سے پھل، سبزیاں اورکھانے کے طریقے تجارت اورسلطنتوں کے ذریعے وسطی ایشیا اوریورپ سے آئے ہیں۔ انہوں نے آلواورمرچ جیسی چیزوں کی مثالیں دیں اورپرتگالیوں کے گرافٹنگ کے طریقوں کا ذکرکیا، جنہیں بعد میں مغل حکمرانوں نے فروغ دیا۔ انہوں نے ہندوستان میں پیدا ہونے والے گنّے کے عالمی سفرکا ذکرکیا۔ گنے کی کھیتی میں مزدورطبقے کے کردارپربھی روشنی ڈالی۔
سہیل ہاشمی نے ایشیا اوریورپ کی دی مثالیں
طرزتعمیرکے حوالے سے سہیل ہاشمی نے نوآبادیاتی دورکے ’ہندو‘ یا ’اسلامی‘ طرزِتعمیرجیسی اصطاحوں پرتنقید کی۔ ان کے مطابق اس طرح کی درجہ بندیاں آب وہوا، تاریخی شواہد اورٹیکنا لوجی جیسے حقائق کونظراندازکرتی ہیں۔ ایشیا اوریورپ کی مثالیں دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گنبد اورمحراب جیسی تعمیری خصوصیات کئی مذاہب میں بہت پہلے سے موجود تھیں اور مختلف خطّوں میں مختلف صورتیں اختیارکرتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہجرت، سفراورآپسی روابط انسانی تاریخ کے بنیادی عناصرہیں، اس لیے’بھارتی‘ اور’غیرملکی‘ کے درمیان تفریق کا نظریہ تاریخی طورپرسخت گمراہ کن ہے۔ ویبینارکی نظامت انڈین ہسٹری فورم کی ریسرچ اسسٹنٹ اورکوآرڈینیٹرحمیرہ آفرین نے کی۔ حمیرہ آفرین نے شرکاء کا خیرمقدم کیا اورمقررکا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بھارت کے ماضی کے بارے میں باخبراورجامع مکالمے کے لیے آئی ایچ ایف کے عزم کا اعادہ کیا۔
کیون رڈ نے کہا - ڈونلڈ ٹرمپ کے دل میں وزیر اعظم نریندر مودی کے…
17 اکتوبر کو جب سرسید احمد خاں کو یاد کیا جائے تو ان کے اس…
گروگرام کے مہارانا پرتاپ سُورن جینتی اُدیان، یعنی لیزر ویلی گراؤنڈ میں 7 اکتوبر کو…
ملک بھر میں جاری ’سیوا سنکلپ ابھیان‘ کے تحت 7 اکتوبر کو ہریانہ کے گروگرام…
مرکزی وزیر داخلہ و تعاون امت شاہ نے کہا کہ کوآپریٹو نظام کے ذریعے مویشی…
مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی ’زیرو ٹالرنس‘ پالیسی کے تحت جموں و کشمیر سے…