نئی دہلی:امت شاہ نے لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن بل پر ووٹنگ سے پہلے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن بظاہر بل کی حمایت کر رہی ہے، لیکن “کنتو-پرنتو” جیسے الفاظ استعمال کرکے دراصل اس کی مخالفت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انڈیا اتحاد کے کئی رہنماؤں نے خواتین ریزرویشن بل کے نفاذ پر اعتراضات اٹھا کر مخالفت کی ہے۔
2029 کا انتخاب ریزرویشن کے تحت کرانا مقصد
امت شاہ نے کہا کہ اس وقت لوک سبھا میں 543 ارکان ہیں، لیکن کئی حلقوں میں ووٹروں کی تعداد میں بہت بڑا فرق ہے۔ کہیں 60 ہزار ووٹر ہیں تو کہیں 49 لاکھ تک ووٹر موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی تعداد والے حلقوں میں رکن پارلیمنٹ کے لیے تمام ووٹروں تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں 127 ایسی نشستیں ہیں جہاں 20 لاکھ سے زیادہ ووٹر ہیں، جبکہ ایک نشست پر 48 لاکھ سے زیادہ ووٹر موجود ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک رکن پارلیمنٹ اتنی بڑی آبادی کی نمائندگی کیسے کرے گا؟
کانگریس پارٹی پر نشانہ سادھتے ہوئے امت شاہ نے کہا کہ 1971 میں اندرا گاندھی کی حکومت کے دوران نشستوں کو منجمد کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے آج بھی پرانے اعداد و شمار استعمال ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حد بندی (ڈیلمیٹیشن) کی اجازت دی جائے تو نشستوں میں اضافہ ہوگا اور ووٹ کی قدر برابر ہو جائے گی۔امت شاہ نے مزید کہا کہ 1972 میں اندرا گاندھی حکومت نے نشستوں کی تعداد 525 سے بڑھا کر 545 کی تھی، لیکن بعد میں 1976 میں حد بندی پر روک لگا دی گئی۔ امت شاہ نے الزام لگایا کہ کانگریس نے اقتدار میں رہتے ہوئے حد بندی کو روکا تھا اور اب اپوزیشن میں رہتے ہوئے بھی اس کی مخالفت کر رہی ہے۔انہوں نے اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ حد بندی کی حمایت کرے تاکہ ووٹ کی قدر پورے ملک میں یکساں ہو سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بہار قانون ساز کونسل کے انتخابات سے پہلے جنتا دل یونائیٹڈ کے اندر جاری اختلافات…
مدھیہ پردیش کے گوالیار میں شیتلا ماتا مندر کے قریب پیش آنے والے بھیانک سڑک…
وزیر اعظم وکست بھارت روزگار یوجنا کے تحت پہلی بار ملازمت شروع کرنے والے نوجوانوں…
فرانس میں مہنگائی اور بے روزگاری کے خلاف ملک گیر احتجاج نے پرتشدد رخ اختیار…
محکمہ موسمیات نے 18 اکتوبر کو ملک کی کئی ریاستوں میں شدید بارش، آندھی اور…
نوراتری کے دوران مغربی بنگال، مدھیہ پردیش، راجستھان اور اتر پردیش میں پیش آنے والے…