بین الاقوامی

Strait of Hormuz reopens All Ships: آبنائے ہرمز 40 دن بعد تمام بحری جہازوں کے لئے کھول دیا گیا، ایرانی وزیر خارجہ نے کیا بڑا اعلان

آبنائے ہرمز40 دن بعد مکمل طورپردوبارہ کھل گیا ہے۔ یہ اعلان ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کیا۔ عباس عراقچی نے کہا کہ اب تمام بحری جہازبغیرکسی پریشانی کے آبنائے ہرمز سے گزرسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ لبنان میں جنگ بندی کے بعد کیا ہے۔ ایران نے امریکی حملے کوناکام بنانے کے لئے 6 مارچ کوآبنائے ہرمزکوبند کردیا تھا۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ جب تک مستقل جنگ بندی ہے، تب تک آبنائے ہرمزسے سبھی تجارتی جہازآزادانہ طورپرگزرسکیں گے۔ تمام بحری جہازاسلامی جمہوریہ ایران کی بندرگاہوں اورمیری ٹائم آرگنائزیشن کی طرف سے پہلے اعلان کردہ مربوط راستے سے گزرسکیں گے۔”

ایران نے کیوں لیا آبنائے ہرمزکھولنے کا فیصلہ؟

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے دودن پہلے آبنائے ہرمزسے ناکہ بندی ہٹانے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے ایک انٹرویومیں کہا کہ چین سے میری بات ہوئی ہے۔ ہم ناکہ بندی ہٹائیں گے۔ ایران نے ہرمز سے متعلق ہماری بات مان لی ہے۔ چین نے بھی ہماری بات مان لی ہے۔ وہیں ایران پرجنگ بندی کوآگے بڑھانے کے لئے آبنائے ہرمزکھولنے کا دباوتھا۔ امریکہ کا کہنا تھا کہ جنگ بندی پربات تبھی آگے بڑھے گی، جب تک ایران آبنائے ہرمزنہیں کھولے گا۔ نیوزایجنسی رائٹرس نے ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ایران اورامریکہ کے درمیان جنگ بندی کوآگے بڑھانے پررضا مندی بن گئی ہے۔ اسی قواعد کے تحت آبنائے ہرمزکوکھولا گیا ہے۔

عمان نے مسترد کردی تھی تجویز!

 ایران پرآبنائے ہرمزکھولنے کا دباوتھا۔ ہرمزکوکھلوانے سے متعلق پیرس میں 40 ممالک کی ایک میٹنگ مجوزہ ہے۔ اس میٹنگ میں فرانس-برطانیہ جیسے ممالک کے لیڈران شامل ہوں گے۔ ایران موجود وقت میں ایک ساتھ اتنے ممالک سے دشمنی مول نہیں لے سکتا ہے۔ عمان نے گزشتہ دنوں ٹول لینے کی تجویزمسترد کردی تھی۔ عمان کا کہنا تھا کہ جوراستہ نیچرل ہے، اس سے کیسے ٹول لیا جاسکتا ہے۔ اس کے بعد ایران پردباوبڑھ گیا تھا۔ حالانکہ ایک طرح سے یہ ایران کی جیت ہے۔ کیونکہ آبنائے ہرمزکھولنے کے بدلے حزب اللہ کے خلاف بھی جنگ بندی ہوگئی ہے۔

آبنائے ہرمز کیوں ہے پوری دنیا کے لئے اہم؟

آبنائے ہرمزخلیج فارس اورخلیج عمان کے درمیان ایک تنگ راستہ ہے۔ یہ راستہ دنیا کی تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد لے جاتا ہے۔ قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، عراق اور بحرین جیسے ممالک اس راستے سے دنیا کواپنا تیل فروخت کرتے ہیں۔ ایران اس 34 کلومیٹرطویل راستے کوکنٹرول کرتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-

Nisar Ahmad

Recent Posts

CEC Gyanesh Kumar: گیانیش کمار کو جانا ہی ہوگا، کانگریس کا مطالبہ، کاکروچ جنتا پارٹی کا آج ختم ہو رہا ہےالٹی میٹم

کے سی وینوگوپال نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے حکومت اور اس…

2 hours ago

Major Plane Crash in Congo: کانگو میں بڑا طیارہ حادثہ، 2 فوجی افسران سمیت 14 افراد ہلاک

فوج کے ترجمان کے مطابق، دونوں اعلیٰ فوجی افسران کے علاوہ وفد کے 12 ارکان…

2 hours ago